Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Ahqaf — Ayah 15

46:15
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ إِحۡسَٰنًاۖ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ كُرۡهٗا وَوَضَعَتۡهُ كُرۡهٗاۖ وَحَمۡلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهۡرًاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗ قَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِي فِي ذُرِّيَّتِيٓۖ إِنِّي تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَإِنِّي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ١٥
اور ہم نے حکم کر دیا انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی کا1 پیٹ میں رکھا اسکو اسکی ماں نے تکلیف سے اور جنا اسکو تکلیف سے2 اور حمل میں رہنا اس کا اور دودھ چھوڑنا تیس مہینے میں ہے3 یہاں تک کہ جب پہنچا اپنی قوت کو اور پہنچ گیا چالیس برس کو4 کہنے لگا اے رب میرے میری قسمت میں کر کہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں نیک کام جس سے تو راضی ہو اور مجھ کو دے نیک اولاد میری میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں ہوں حکم بردار5
Footnotes
  • [1] ایک دعاء کی تعلیم:یعنی سعادت مند آدمی ایسا ہوتا ہے کہ جو احسانات اللہ تعالٰی کے اس پر اور اسکے ماں باپ پر ہو چکے ان کا شکر ادا کرنے اور آئندہ نیک عمل کرنے کی توفیق خدا سے چاہے اور اپنی اولاد کے حق میں بھی نیکی کی دعا مانگے۔ جو کوتاہی حقوق اللہ یا حقوق العباد میں رہ گئ ہو، اس سے توبہ کرے اور ازراہ تواضع و بندگی اپنی مخلصانہ عبودیت و فرمانبرداری کا اعتراف کرے۔ (تنبیہ) حضرت ابوبکرؓ کی ایک خصوصیت: صحابہؓ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ بڑے ہی خوش قسمت تھے کہ خود انکو ، انکے ماں باپ کو اور اولاد کو ایمان کے ساتھ صحبت نبی ﷺ کا شرف میسر ہوا۔ صحابہ میں یہ خصوصیت کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔
  • [2] بچے کیلئے ماں کی صعوبتیں:یعنی حمل جب کئ مہینہ کا ہو جاتا ہے اس کا ثقل محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اس حالت میں اور تولد کے وقت ماں کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کرتی ہے۔ پھر دودھ پلاتی اور برسوں تک اس کی ہر طرح نگہداشت رکھتی ہے۔ اپنی آسائش و راحت کو اس کی آسائش و راحت پر قربان کر دیتی ہے۔ باپ بھی بڑی حد تک ان تکلیفوں میں شریک رہتا اور سامان تربیت فراہم کرتا ہے۔ بیشک یہ سب کام فطرت کے تقاضا سے ہوتے ہیں مگر اسی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ اولاد ماں باپ کی شفقت و محبت کو محسوس اور انکی محنت و ایثار کی قدر کرے۔ (تنبیہ) حدیث میں ماں کی خدمت گذاری کا تین مرتبہ حکم فرما کر باپ کی خدمت گذاری کا ایک مرتبہ حکم فرمایا ہے لطف یہ ہے کہ آیہ ہذا میں والد کا ذکر صرف ایک مرتبہ لفظ والِدَیْہَ میں ہوا۔ اور والدہ کا تین مرتبہ ذکر آیا لفظ والِدَیْہَ میں پھر حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ میں پھر وَضَعَتْہُ میں۔
  • [3] شاید یہ بطور عادت اکثر یہ کہ فرمایا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتےہیں کہ لڑکا اگر قوی ہو تو اکیس مہینہ میں دودھ چھوڑتا ہے اور نو مہینے ہیں حمل کے یا یوں کہو کہ کم ازکم مدت حمل چھ مہینے اور دو برس میں عمومًا بچوں کا دودھ چھڑا دیا جاتا ہے۔ اس طرح کل مدت تیس مہینے ہوئے مدت رضاع کا اس سے زائد ہونا نہایت قلیل و نادر ہے۔
  • [4] چالیس برس کی عمر میں عمومًا انسان کی عقلی اور اخلاقی قوتیں پختہ ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے انبیاء علیہم السلام کی بعثت چالیس برس سے پہلے نہ ہوتی تھی۔
  • [5] والدین کے حقوق:قرآن میں کئ جگہ اللہ تعالٰی نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کا حق بیان فرمایا ہے ۔ کیونکہ موجد حقیقی تو اللہ ہے لیکن عالم اسباب میں والدین اولاد کے وجود کا سبب ظاہری اور حق تعالٰی کی شان رُبُوبیت کا مظہر خاص بنتے ہیں۔ یہاں بھی پہلے اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا میں اللہ تعالٰی کے حقوق کا ذکر تھا۔ اب والدین کا حق بتلا دیا۔ یعنی انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے، انکی تعظیم و محبت اور خدمت گذاری کو اپنی سعادت سمجھے۔ دوسری جگہ بتلایا ہے کہ اگر والدین مشرک ہوں تب بھی انکے ساتھ دنیا میں معاملہ اچھا رکھنا چاہئے۔ خصوصًا ماں کی خدمت گذاری کہ بعض وجوہ سے اس کا حق باپ سے بھی فائق ہے ۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر دال ہیں۔