Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Muhammad — Ayah 18

47:18
فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗۖ فَقَدۡ جَآءَ أَشۡرَاطُهَاۚ فَأَنَّىٰ لَهُمۡ إِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرَىٰهُمۡ ١٨
اب یہی انتظار کرتے ہیں قیامت کا کہ آ کھڑی ہو ان پر اچانک سو آچکی ہیں اسکی نشانیاں پھر کہاں نصیب ہو گا انکو جب وہ آ پہنچے ان پر سمجھ پکڑنا1
Footnotes
  • [1] قیامت کی نشانیاں آ چکی ہیں:یعنی قرآن کی نصیحتیں، گذشتہ اقوام کی عبرتناک مثالیں اور جنت و دوزخ کے وعدہ وعید سب سن چکے۔ اب ماننے کے لئے کس وقت کا انتظار ہے۔ یہ ہی کہ قیامت کی گھڑی انکے سر پر اچانک آ کھڑی ہو۔ سو قیامت کی کئی نشانیاں تو آ چکیں اور جب خود قیامت آ کھڑی ہو گی، اس وقت ان کے لئے سمجھ حاصل کرنے اور ماننے کا موقع کہاں باقی رہے گا۔ یعنی وہ سمجھنا اور ماننا بیکار ہے کیونکہ اس پر نجات نہیں ہو سکتی۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "بڑی نشانی قیامت کی ہمارے نبی کا پیدا ہونا ہے۔ سب خاتم النبیین کی راہ دیکھتے تھے۔ جب وہ آچکے (مقصود تخلیق عالم کا حاصل ہو چکا) اب قیامت ہی باقی ہے" حدیث میں نبی کریم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کھاتَیْنِ (میں اور قیامت اس طرح ہیں) گویا میں قیامت سے اتنا آگے نکل آیا ہوں جتنا بیچ کی انگلی شہادت کی انگلی سے آگے نکلی ہوئی ہے۔ شرح صحیح مسلم میں ہم نے اس کی مفصل تقریر کی ہے۔ یہاں گنجائش نہیں۔