Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Muhammad — Ayah 22

47:22
فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ ٢٢
پھر تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تمکو حکومت مل جائے تو خرابی ڈالو ملک میں اور قطع کرو اپنی قرابتیں1
Footnotes
  • [1] اقتدار کی حالت میں فتنہ و فساد:یعنی حکومت و اقتدار کے نشہ میں لوگ عمومًا اعتدال و انصاف پر قائم نہیں رہا کرتے۔ دنیا کی حرص اور زیادہ بڑھ جاتی ہے پھر جاہ و مال کی کشمکش اور غرض پرستی میں جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں۔ جن کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے عام فتنہ و فساد اور ایک دوسرے سے قطع تعلق۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی جان سے تنگ ہو کر جہاد کی آرزو کرتے ہو۔ اور اگر اللہ تم ہی کو غالب کر دے تو فساد نہ کرنا"۔ (تنبیہ) مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے تَوَلَّیْتُمْ کا ترجمہ حکومت مل جانے سے کیا ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے۔ دوسرے علماء تَوَلّٰی کو بمعنی اعراض لے کر یوں مطلب لیتے ہیں کہ اگر تم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے اعراض کرو گے تو ظاہر ہے دنیا میں امن و انصاف قائم نہیں ہو سکتا۔ اور جب دنیا میں امن و انصاف نہ رہے گا تو ظاہر ہے فساد، بدامنی اور حق ناشناسی کا دور دورہ ہو گا۔ اور بعض نے اس طرح تفسیر کی ہے کہ اگر تم ایمان لانے سے اعراض کرو گے تو زمانہ جاہلیت کی کیفیت عود کر آئے گی جو خرابیاں اور فساد اس وقت تھے اور ادنیٰ ادنیٰ بات پر رشتے ناتے قطع ہو جاتے تھے، وہ ہی سب نقشہ پھر قائم ہو جائے گا اور اگر آیت میں خاص منافقین سے خطاب مانا جائے تو ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر جہاد سے اعراض کرو گے تو تم سے یہ ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اپنی منافقانہ شرارتوں سے ملک میں خرابی مچاؤ گے اور جن مسلمانوں سے تمہاری قرابتیں ہیں انکی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے کھلے کافروں کے مددگار بنو گے۔