Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Muhammad — Ayah 30

47:30
وَلَوۡ نَشَآءُ لَأَرَيۡنَٰكَهُمۡ فَلَعَرَفۡتَهُم بِسِيمَٰهُمۡۚ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِي لَحۡنِ ٱلۡقَوۡلِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ أَعۡمَٰلَكُمۡ ٣٠
اگر ہم چاہیں تجھ کو دکھلا دیں وہ لوگ سو تو پہچان تو چکا ہے اُنکو اُنکے چہرہ سے اور آگے پہچان لے گا بات کے ڈھب سے1 اور اللہ کو معلوم ہیں تمہارے سب کام2
Footnotes
  • [1] یعنی بندوں سے کوئی بات چھپی رہے، ممکن ہے۔ مگر اللہ کے علم میں تمہارے سب کام ہیں خواہ کھل کر کرو یا چھپا کر۔
  • [2] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین کی پہچان:یعنی اللہ چاہے تو تمام منافقین کو باشخاصہم معین کر کے آپ کو دکھلا دے اور نام بنام مطلع کر دے کہ مجمع میں فلاں فلاں آدمی منافق ہیں۔ مگر اسکی حکمت بالفعل اس دو ٹوک اظہار کو مقتضی نہیں۔ ویسے اللہ نے آپ کو اعلٰی درجہ کا نور فراست دیا ہے کہ ان کے چہرے بشرے سے آپ پہچان لیتے ہیں اور آگے چل کر ان لوگوں کے طرز گفتگو سے آپ کو مزید شناخت ہو جائے گی۔ کیونکہ منافق اور مخلص کی بات کا ڈھنگ الگ الگ ہوتا ہے۔ جو زور ، شوکت، پختگی اور خلوص کا رنگ مخلص کی باتوں میں جھلکتا ہے، منافق کتنی ہی کوشش کرے اپنے کلام میں پیدا نہیں کر سکتا۔ (تنبیہ) مترجم محقق قدس اللہ روحہٗ نے فَلَعَرَفْتَہُمْ کو لَوۡ نَشَآءُ کے نیچے نہیں رکھا۔ عامّہ مفسرین اسکو لَوۡ نَشَآءُ کے تحت میں رکھ کر لَاَرَیۡنٰکَہُمۡ پر متفرع کرتے ہیں یعنی اگر ہم چاہیں تو تجھ کو دکھلا دیں وہ لوگ، پھر تو انکو پہچان جائے صورت دیکھ کر۔ احقر کے خیال میں مترجم رحمہ اللہ کی تفسیر زیادہ لطیف ہے۔ واللہ اعلم۔ بعض احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے بہت سےمنافقین کو نام بنام پکارا اور اپنی مجلس سے اٹھا دیا۔ ممکن ہے کہ وہ شناخت لَحۡنِ الۡقَوۡلِ اور سِیْما وغیرہ سے حاصل ہوئی ہو۔ یا آیۂ ہذا کے بعد حق تعالٰی نے آپکو بعض منافقین کے اسماء پر تفصیل و تعیین کے ساتھ مطلع فرما دیا ہو۔ واللہ اعلم۔