Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Muhammad — Ayah 36

47:36
إِنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ يُؤۡتِكُمۡ أُجُورَكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ أَمۡوَٰلَكُمۡ ٣٦
یہ دنیا کا جینا تو کھیل ہے اور تماشا اور اگر تم یقین لاؤ گے اور بچ کر چلو گے دے گا تمکو تمہارا بدلا اور نہ مانگے گا تم سے مال تمہارے1
Footnotes
  • [1] ایمان و تقویٰ کے دنیاوی فوائد:یعنی آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت ایک کھیل تماشہ جیسی ہے ۔ اگر تم ایمان و تقویٰ اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشہ سے ذرا بچ کر چلو گے۔ تو اللہ تمکو اس کا پورا بدلہ دے گا اور تمہارا مال بھی تم سے طلب نہیں کرے گا۔ اسے کیا حاجت ہے۔ وہ تو خود دینے والا ہے کمال قال اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الۡقُوَّۃِ الۡمَتِیۡنُ (ذاریات۔۵۷،۵۸) اگر طلب بھی کرے تو مالک حقیقی وہ ہی ہے تمام مال اسی کا ہے مگر اسکے باوجود دین کے معاملہ میں جب خرچ کرنے کو کہتا ہے تو سارے مال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ بلکہ ایک تھوڑ ا سا حصہ طلب کیا جاتا ہے۔ وہ بھی اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے فائدہ کو۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "حق تعالیٰ نے ملک فتح کرا دیے مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن (اپنی گرہ سے) پیسہ خرچ کرنا پڑا۔ پھر جتنا خرچ کیا تھا۔ اس سے سو سو گناہ ہاتھ لگا۔ اس مطلب سے (قرآن کریم میں کئ جگہ) فرمایا ہے کہ اللہ کو قرض دو"۔