Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Muhammad — Ayah 4

47:4
فَإِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَضَرۡبَ ٱلرِّقَابِ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَثۡخَنتُمُوهُمۡ فَشُدُّواْ ٱلۡوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّۢا بَعۡدُ وَإِمَّا فِدَآءً حَتَّىٰ تَضَعَ ٱلۡحَرۡبُ أَوۡزَارَهَاۚ ذَٰلِكَۖ وَلَوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَٱنتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَاْ بَعۡضَكُم بِبَعۡضٖۗ وَٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٤
سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو انکو تو مضبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجیو1 جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار2 یہ سن چکے اور اگر چاہے اللہ تو بدلا لے ان سے پر جانچنا چاہتا ہے تمہارے ایک سے دوسرے کو3 اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو نہ ضائع کرے گا وہ انکے کئے کام
Footnotes
  • [1] جہاد کی مشروعیت کی حکمت:یعنی یہ حرب و ضرب اور قیدوبند کا سلسلہ برابر جاری رہے گا تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دے اور جنگ موقوف ہو جائے۔
  • [2] یعنی خدا کو قدرت ہے کہ ان کافروں کو کوئی آسمانی عذاب بھیج کر "عاد" و "ثمود" وغیرہ کی طرح ہلاک کر ڈالے۔ لیکن جہاد و قتال شروع کر کے اسے بندوں کا امتحان کرنا تھا۔ وہ دیکھتا ہے کہ کتنے مسلمان اللہ کے نام پر جان و مال نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور کفار میں سے کتنے لوگ ان تنبیہی کارروائیوں سے بیدار ہوتے اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ نے دے رکھی ہے کہ پہلی قوموں کی طرح ایک دم پکڑ کر استیصال نہیں کر دیتا۔
  • [3] جہاد میں سختی کا حکم:یعنی حق اورباطل کا مقابلہ تو رہتا ہی ہے۔ جس وقت مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہو جائے تو مسلمانوں کو پوری مضبوطی اور بہادری سے کام لینا چاہئے۔ باطل کا زور جب ہی ٹوٹے گا کہ بڑے بڑے شریر مارے جائیں اور انکے جتھے توڑ دیے جائیں۔ اس لئے ہنگامہ کارزار میں کسل، سستی، بزدلی اور توقف و تردد کو راہ نہ دو۔ اور دشمنان خدا کی گردنیں مارنے میں کچھ باک نہ کرو۔ کافی خونریزی کے بعد جب تمہاری دھاک بیٹھ جائے اور ان کا زور ٹوٹ جائے اس وقت قید کرنا بھی کفایت کرتا ہے۔ قال تعالٰی مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ (انفال۔۶۸)۔ جہاد کے قیدی اور انکے احکام: یہ قید وبند ممکن ہے ان کے لئے تازیانہ عبرت کا کام دے اور مسلمانوں کے پاس رہ کر انکو اپنی اور تمہاری حالت کے جانچنے اور اسلامی تعلیمات میں غور کرنے کا موقع بہم پہنچائے شدہ شدہ وہ لوگ حق و صداقت کا راستہ اختیار کر لیں۔ یا مصلحت سمجھو تو بدون کسی معاوضہ کے ان پر احسان کر کے قید سے رہا کرو۔ اس صورت میں بہت سے افراد ممکن ہے تمہارے احسان اور خوبی اخلاق سے متاثر ہو کر تمہاری طرف راغب ہوں اور تمہارے دین سے محبت کرنے لگیں۔ اور یہ بھی کر سکتے ہو کہ زر فدیہ لے کر یا مسلمان قیدیوں کے مبادلہ میں ان قیدیوں کو چھوڑ دو اس میں کئ طرح کے فائدے ہیں۔ بہرحال اگر ان اسیران جنگ کو انکے وطن کی طرف واپس کر و تو دو ہی صورتیں ہیں۔ معاوضہ میں چھوڑنا یا بلامعاوضہ رہا کرنا۔ ان میں جو صورت امام کے نزدیک اصلح ہو اختیار کر سکتا ہے۔ حنفیہ کے ہاں بھی فتح القدیر اور شامی وغیرہ میں اس طرح کی روایات موجود ہیں ہاں اگر قیدیوں کو ان کے وطن کی طرف واپس کرنا مصلحت نہ ہو تو پھر تین صورتیں ہیں۔ ذِمّی بنا کر بطور رعیت کے رکھنا یا غلام بنا لینا، یا قتل کر دینا۔ احادیث سے قیدی کو قتل کرنے کا ثبوت صرف خاص خاص حالات میں ملتا ہے جبکہ وہ کسی ایسے سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہو جس کی سزا قتل سے کم نہیں ہو سکتی تھی البتہ غلام یا رعیت بنا کر رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔