Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hujurat — Ayah 11

49:11
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٞ مِّن قَوۡمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُواْ خَيۡرٗا مِّنۡهُمۡ وَلَا نِسَآءٞ مِّن نِّسَآءٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهُنَّۖ وَلَا تَلۡمِزُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَلَا تَنَابَزُواْ بِٱلۡأَلۡقَٰبِۖ بِئۡسَ ٱلِٱسۡمُ ٱلۡفُسُوقُ بَعۡدَ ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن لَّمۡ يَتُبۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ١١
اے ایمان والون ٹھٹھا نہ کریں ایک لوگ دوسروں سے شاید وہ بہتر ہوں ان سے اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے شیاد وہ بہتر ہوں ان سے اور عیب نہ لگاؤ ایک دوسرےکو اور نام نہ ڈالو چڑانے کو ایک دوسرے کے1 برا نام ہے گنہگاری پیچھے ایمان کے2 اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی ہیں بے انصاف3
Footnotes
  • [1] مرد و عورت ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں:اول مسلمانوں میں نزاع و اختلاف کو روکنے کی تدابیر بتلائی تھی۔ پھر بتلایا کہ اگر اتفاقًا اختلاف رونما ہو جائے تو پرزور اور مؤثر طریقہ سے اس کو مٹایا جائے۔ لیکن جب تک نزاع کا خاتمہ نہ ہو کوشش ہونی چاہئے کہ کم از کم جذبات منافرت و مخالفت زیادہ تیز اور مشتعل نہ ہونے پائیں۔ عمومًا دیکھا جاتا ہے کہ جہاں دو شخصوں یا دو جماعتوں میں اختلاف رونما ہوا۔ بس ایک دوسرے کا تمسخر اور استہزاء کرنے لگتا ہے۔ ذرا سی بات ہاتھ لگ گئ اور ہنسی مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ حالانکہ اسے معلوم نہیں کہ شاید جس کا مذاق اڑا رہا ہے وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو۔ بکہ بسا اوقات یہ خود بھی اختلاف سے پہلے اسکو بہتر سمجھتا ہوتا ہے۔ مگر ضد ونفسانیت میں دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آتا ہے اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ اس طریقہ سے نفرت و عداوت کی خلیج روز بروز وسیع ہوتی رہتی ہے۔ اور قلوب میں اس قدر بُعد ہو جاتا ہے کہ صلح وائتلاف کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ آیۂ ہذا میں خداوند قدوس نے اسی قسم کی باتوں سے منع فرمایا ہے۔ یعنی ایک جماعت دوسری جماعت کے ساتھ مسخرا پن نہ کرے نہ ایک دوسرے پر آوازے کسے جائیں نہ کھوج لگا کر عیب نکالے جائیں اور نہ برے ناموں اور برے القاب سے فریق مقابل کو یاد کیا جائے، کیونکہ ان باتوں سے دشمنی اور نفرت میں ترقی ہوتی اور فتنہ و فساد کی آگ اور تیزی سے پھیلتی ہے۔ سبحان اللہ! کیسی بیش بہا ہدایت ہیں۔ آج اگر مسلمان سمجھیں تو ان کے سب سے بڑے مرض کا مکمل علاج اسی ایک سورہ حجرات میں موجود ہے۔
  • [2] برے القاب سے نہ پکارو:یعنی کسی کو برا نام ڈالنے سے آدمی خود گنہگار ہو تا ہے۔ اُسے تو واقع میں عیب لگا یا نہ لگا لیکن اس کا نام بدتہذیب، فاسق گنہگار، مرد آزار پڑ گیا۔ خیال کرو۔ "مومن" کے بہترین لقب کے بعد یہ نام کیا اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب ایک شخص ایمان لا چکا اور مسلمان ہو گیا اسکو مسلمانی سے پہلے کی باتوں پرطعن دینا یا اس وقت کے بدترین القاب سے یاد کرنا مثلًا یہودی یا نصرانی وغیرہ کہہ کر پکارنا نہایت مذموم حرکت ہے۔ اسی طرح جو شخص عیب میں مبتلا ہوا اور وہ اس کا اختیاری نہ ہو، یا ایک گناہ سے فرض کیجئے توبہ کر چکا ہے، چڑانے کے لئے اس کا ذکر کرنا بھی جائز نہیں۔
  • [3] توبہ کی سہولت:یعنی جو پہلے ہو چکا ہو چکا اب توبہ کر لو۔ اگر یہ احکام و ہدایات سننے کے بعد بھی ان جرائم سے توبہ نہ کی تو اللہ کے نزدیک اصلی ظالم یہ ہی ہوں گے۔