Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hujurat — Ayah 3

49:3
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصۡوَٰتَهُمۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱمۡتَحَنَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡ لِلتَّقۡوَىٰۚ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٌ عَظِيمٌ ٣
جو لوگ دبی آواز سے بولتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہی ہیں جنکے دلوں کو جانچ لیا ہے اللہ نے ادب کے واسطے1 انکے لئے معافی ہے اور ثواب بڑا2
Footnotes
  • [1] ادب و تعظیم کے ثمرات:یعنی جو لوگ نبی کی مجلس میں تواضع اور ادب و تعظیم سے بولتے ہیں اور نبی کی آواز کے سامنے اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں یہ وہ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے ادب کی تخم ریزی کے لئے پرکھ لیا ہے اور مانجھ کر خالص تقویٰ و طہارت کے واسطے تیار کر دیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتےہیں کہ چار چیزیں اعظم شعائر اللہ سے ہیں۔ قرآن، پیغمبر، کعبہ، نماز ۔ ان کی تعظیم وہ ہی کرے گا جس کا دل تقویٰ سے مالامال ہو وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ (الحج۔۳۲) یہاں سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جب حضور ﷺ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا خلاف ادب ہے تو آپ کے احکام و ارشادات سننے کے بعد انکے خلاف آواز اٹھانا کس درجہ کا گناہ ہو گا۔
  • [2] یعنی اس اخلاص و حق شناسی کی برکت سے پچھلی کوتاہیاں معاف ہوں گی اور بڑا بھاری ثواب ملے گا۔