Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hujurat — Ayah 5

49:5
وَلَوۡ أَنَّهُمۡ صَبَرُواْ حَتَّىٰ تَخۡرُجَ إِلَيۡهِمۡ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٥
اور اگر وہ صبر کرتے جب تک تو نکلتا اُنکی طرف تو اُنکے حق میں بہتر ہوتا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے1
Footnotes
  • [1] بزرگوں سے ملاقات کے آداب:بنی تمیم ملنے کو آئے، حضور ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف رکھتے تھے، وہ لوگ باہر سے آوازیں دینے لگے کہ یا مُحَمَّد اُخْرُجْ اِلَیْنَا (اے محمد باہر آئیے) یہ بے عقلی اور بے تہذیبی کی بات تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے مرتبہ کو نہیں سمجھتے تھے۔ کیا معلوم ہے اس وقت آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ یا کسی اور مہم کام میں مشغول ہوں۔ آپ کی ذات منبع البرکات تو مسلمانوں کے تمام دینی و دنیوی امور کا مرکز و ملجاء تھی۔ کسی معمولی ذمہ دار آدمی کے لئے بھی کام کرنا سخت مشکل ہو جائے اگر اس کا کوئی نظام الاوقات نہ ہو۔ اور آخر پیغمبرکا ادب و احترام بھی کوئی چیز ہے ۔ چاہئے تھا کہ کسی کی زبانی اندر اطلاع کراتے اور آپ کے باہر تشریف لانے تک صبر کرتے۔ جب آپ باہر تشریف لا کر انکی طرف متوجہ ہوتے اس وقت خطاب کرنا چاہئے تھا۔ ایسا کیا جاتا تو انکے حق میں بہتر اور قابل ستائش ہوتا۔ تاہم بے عقلی اور نادانستگی سے جو بات اتفاقًا سرزد ہو جائے اللہ اسکو اپنی مہربانی سے بخشنے والا ہے۔ چاہیئے کہ اپنی تقصیر پر نادم ہو کرآئندہ ایسا رویہ اختیار نہ کریں۔ حضور ﷺ کی تعظیم و محبت ہی وہ نقطہ ہے جس پر قوم مسلم کی تمام پراگندہ قوتیں اور منتشر جذبات جمع ہوتے ہیں اور یہ ہی وہ ایمانی رشتہ ہے جس پر اسلامی اخوت کا نظام قائم ہے۔