Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hujurat — Ayah 9

49:9
وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱقۡتَتَلُواْ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَهُمَاۖ فَإِنۢ بَغَتۡ إِحۡدَىٰهُمَا عَلَى ٱلۡأُخۡرَىٰ فَقَٰتِلُواْ ٱلَّتِي تَبۡغِي حَتَّىٰ تَفِيٓءَ إِلَىٰٓ أَمۡرِ ٱللَّهِۚ فَإِن فَآءَتۡ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَهُمَا بِٱلۡعَدۡلِ وَأَقۡسِطُوٓاْۖ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ ٩
اور اگر دو فریق مسلمانوں کے آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں ملاپ کرا دو پھر اگر چڑھا چلا جائے ایک ان میں سے دوسرے پر تو تم سب لڑو اس چڑھائی والے سے یہاں تک کہ پھر آئے اللہ کے حکم پر پھر اگر پھر آیا تو ملاپ کرا دو ان میں برابر اور انصاف کرو بیشک اللہ کو خوش آتے ہیں انصاف والے1
Footnotes
  • [1] مسلمانوں میں اختلاف کے وقت صحیح طرز عمل:یعنی ان تمام پیش بندیوں کے باوجود اگر اتفاق سے مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو پوری کوشش کرو کہ اختلاف رفع ہو جائے اس میں اگر کامیابی نہ ہو اور کوئی فریق دوسرے پر چڑھا چلا جائے اور ظلم و زیادتی ہی پر کمر باندھ لے تو یکسو ہو کر نہ بیٹھ رہو، بلکہ جس کی زیادتی ہو سب مسلمان ملکر اس سے لڑائی کریں۔ یہاں تک کہ وہ فریق مجبور ہو کر اپنی زیادتیوں سے باز آئے اور خدا کے حکم کی طرف رجوع ہو کر صلح کے لئے اپنے کو پیش کر دے۔ اس وقت چاہئے کہ مسلمان دونوں فریق کے درمیان مساوات و انصاف کے ساتھ صلح اور میل ملاپ کراد یں۔ کسی ایک کی طرفداری میں جادہ حق سے اِدھر اُدھر نہ جھکیں (تنبیہ) آیت کا نزول صحیحین کی رویات کے موافق "انصار" کے دو گروہوں اَوْس اور خَزْرَج کے ایک وقتی ہنگامے کے متعلق ہوا ہے۔ حضور ﷺ نے انکے درمیان اسی آیت کے ماتحت صلح کرا دی۔ جو لوگ خلیفہ کے مقابلہ میں بغاوت کریں وہ بھی عموم آیت میں داخل ہیں چنانچہ قدیم سے علمائے سلف بغاوت کے مسئلہ میں اسی سے استدلال کرتے آئے ہیں۔ لیکن جیسا کہ شان نزول سے ظاہر ہوتا ہے یہ حکم مسلمانوں کے تمام جماعتی مناقشات و مشاجرات کو شامل ہے۔ باقی باغیوں کے متعلق احکام شرعیہ کی تفصیل فقہ میں دیکھنا چاہئیے۔