Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Qaf — Ayah 16

50:16
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥۖ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ ١٦
اور البتہ ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتےہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اُسکے جی میں1 اور ہم اُس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ2
Footnotes
  • [1] اللہ کو دل کے وسوسوں کا بھی علم ہے:(یعنی اسکے ہر قول و فعل سے ہم خبردار ہیں حتٰی کہ جو وساوس و خطرات اسکے دل میں گذرتے ہیں ان کا بھی ہم کو علم ہے۔ اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ (الملک۔۱۴) ۔
  • [2] اللہ شہ رگ سے بھی قریب ہے:گردن کی رگ مراد ہے جسے "شہ رگ" کہتےہیں اور جس کے کٹنے سے انسان مر جاتا ہے۔شاید یہ کنایہ ہو جان اور روح سے مطلب یہ ہوا کہ ہم (باعتبار علم کے) اسکی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں۔ یعنی جیساعلم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے۔ نیز علت اور منشاء کو معلول اور ناشی کے ساتھ وہ قرب حاصل ہوتا ہے جو معلول اور ناشی کو خود اپنے نفس سے بھی نہیں ہوتا۔ اس کا کچھ مختصر بیان اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ (احزاب۔۶) کے حواشی میں ہو چکا ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "اللہ اندر سے نزدیک ہے اور رگ آخر باہر ہے جان سے"۔ ولنعم ما قیل ؎ جاں نہاں در جسم و ادورجاں نہاں ے نہاں اندرنہاں اے جاں جاں۔