Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah An-Najm — Ayah 20

53:20
وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ ٢٠
اور منات تیسرے پچھلے کو1
Footnotes
  • [1] لات ، عُزّیٰ اور منات:یعنی اس لامحدود عظمت و جلال والے خدا کے مقابلہ میں ان حقیر و ذلیل چیزوں کا نام لینے سے شرم آنی چاہیئے۔ (تنبیہ) "لات"، "عزیٰ"، "مناۃ" ان کے بتوں اور دیویوں کے نام ہیں۔ ان میں "لات" طائف والوں کے ہاں بہت معظم تھا۔ "مناۃ" اوس و خزرج اور خزاعہ کے ہاں۔ اور "عزیٰ" کو قریش اور بنی کنانہ وغیرہ ان دونوں سے بڑا سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اول "عزیٰ" جو مکہ کے قریب نخلہ میں تھا۔ پھر "لات" جو طائف میں تھا۔ پھر سب سے پیچھے تیسرے درجہ میں "مناۃ" جو مکہ سے بہت دور مدینہ کے نزدیک واقع تھا۔ علامہ یاقوت نے معجم البلدان میں یہ ترتیب نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہ الفاظ کہتے تھے۔ وَاللَّاتِ وَالعُزّٰی وَمَنَاۃِ الثَالِثَۃِ الْاُخْرٰی۔ ھٰؤُلَاءِالْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی۔ غرانیق العُلٰی کے واقعہ کی توجیہہ: کتب تفسیر میں اس موقع پر ایک قصہ نقل کیا ہے جو جمہورمحدثین کے اصول پر درجہ صحت کو نہیں پہنچتا۔ اگر فی الواقع اس کی کوئی اصل ہے تو شاید یہ ہی ہوگی کہ آپ ﷺ نے مسلمانوں اور کافروں کے مخلوط مجمع میں یہ سورۃ پڑھی۔ کفار کی عادت تھی کہ لوگوں کو قرآن سننے نہ دیں اور بیچ میں گڑ بڑ مچادیں کما قال تعالیٰ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ الۡغَوۡا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ (حم السجدہ۔۲۶) جب یہ آیت پڑھی تو کسی کافر شیطان نے آپ کی آواز میں آواز ملا کر آپ ہی کے لب و لہجہ سے وہ الفاظ کہہ دیئے ہونگے جو ان کی زبانوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی الخ۔ آگے تعبیر و ادا میں تصرف ہوتے ہوتے کچھ کا کچھ بن گیا۔ ورنہ ظاہر ہے نبی کی زبان پر شیطان کو ایسا تسلط کب حاصل ہوسکتا ہے اور جس چیز کا ابطال آگے کیا جارہا ہے اس کی مدح سرائی کے کیا معنی۔