Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Qamar — Ayah 1

54:1
ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ ١
پاس آ لگی قیامت اور پھٹ گیا چاند1
Footnotes
  • [1] شق القمر کا واقعہ:ہجرت سے پیشتر نبی کریمﷺ "مِنٰی" میں تشریف فرما تھے کفار کا مجمع تھا، انہوں نے آپ سے کوئی نشانی طلب کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا آسمان کی طرف دیکھو۔ ناگاہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا ان میں سے مغرب کی اور دوسرا مشرق کی طرف چلاگیا۔ بیچ میں پہاڑ حائل تھا۔ جب سب نے خوب اچھی طرح یہ معجزہ دیکھ لیا، دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔ کفار کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) نے چاند پر یا ہم پر جادو کردیا ہے اس معجزہ کو "شق القمر" کہتے ہیں۔ اور یہ ایک نمونہ اور نشانی تھی قیامت کی کہ آگے سب کچھ یوں ہی پھٹے گا۔ طحاویؒ اور ابن کثیرؒ وغیرہ نے اس واقعہ کے تواتر کا دعوٰی کیا ہے۔ اور کسی دلیل عقلی سے آج تک اس طرح کے واقعات کا محال ہونا ثابت نہیں کیا جاسکا اور محض استبعاد کی بنا پر ایسی قطعی الثبوت چیزوں کو ردّ نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ استبعاد تو اعجاز کے لئے لازم ہے۔ روزمرّہ کے معمولی واقعات کو "معجزہ" کون کہے گا۔ (ملاحظہ ہو ہمارا مستقل مضمون جو معجزات و خوارق عادات کے متعلق "المحمود" میں شائع ہوا ہے) باقی یہ کہنا کہ: اس واقعے کی تاریخی حیثیت: "شق القمر" اگر واقع ہوا ہوتا تو تاریخوں میں اس کا وجود کیوں نہیں۔ تو یاد رہے کہ یہ قصہ رات کا ہے۔ بعض ملکوں میں تو اختلاف مطالع کی وجہ سے اس وقت دن ہوگا اور بعض جگہ آدھی رات ہوگی، لوگ عموماً سوتے ہوں گے اور جہاں بیدار ہوں گے اور کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہونگے تو عادۃً یہ ضروری نہیں کہ سب آسمان کی طرف تک رہے ہوں، زمین پر جو چاندنی پھیلی ہوگی۔ بشرطیکہ مطلع صاف ہو، اس میں دو ٹکڑے ہو جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر تھوڑی دیر کا قصہ تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بارہا چاند گہن ہوتا ہے اور خاصہ ممتد رہتا ہے، لیکن لاکھوں انسانوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اور اس زمانہ میں آجکل کی طرح رصد وغیرہ کے اتنے وسیع و مکمل انتظامات اور تقاویم (جنتریوں) کی اس قدر اشاعت بھی نہ تھی، بہرحال تاریخوں میں مذکور نہ ہونے سے اس کی تکذیب نہیں ہو سکتی۔ باایں ہمہ "تاریخ فرشتہ" وغیرہ میں اس کا ذکر موجود ہے۔ ہندوستان میں مہاراجہ "مالیبار" کے اسلام کا سبب اسی واقعہ کو لکھتے ہیں۔