Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Ar-Rahman — Ayah 9

55:9
وَأَقِيمُواْ ٱلۡوَزۡنَ بِٱلۡقِسۡطِ وَلَا تُخۡسِرُواْ ٱلۡمِيزَانَ ٩
اور سیدھی ترازو تولو انصاف سے اور مت گھٹاؤ تول کو1
Footnotes
  • [1] آسمان اور میزان:اوپر سے دو دو چیزوں کے جوڑے بیان ہوتے چلے آرہے تھے۔ یہاں بھی آسمان کی بلندی کے ساتھ آگے زمین کی پستی کا ذکر ہے۔ درمیان میں میزان (ترازو) کا ذکر شاید اس لئے ہو کہ عمومًا ترازو کو تولتے وقت آسمان و زمین کے درمیان معلق رکھتا پڑتا ہے۔ یہ اس تقدیر پر ہے کہ میزان سے مراد ظاہری اور حسی ترازو ہو۔ چونکہ اس کے ساتھ بہت سے معاملات کی درستی اور حقوق کی حفاظت وابستہ تھی۔ اس لئے ہدایت فرما دی کہ وضع میزان کی یہ غرض جب ہی حاصل ہوسکتی ہے کہ نہ لیتے وقت زیادہ تولو، نہ دیتے وقت کم، ترازو کے دونوں پلّے اور باٹ بٹی میں کمی بیشی نہ ہو۔ نہ تولتے وقت ڈنڈی ماری جائے، بلکہ بدون کمی بیشی کے دیانتداری کے ساتھ بالکل ٹھیک ٹھیک تولا جائے۔ (تنبیہ) اکثر سلف نے وضع میزان سے اس جگہ عدل کا قائم کرنا مراد لیا ہے، یعنی اللہ نے آسمان سے زمین تک ہر چیز کو حق و عدل کی بنیاد پر اعلٰی درجہ کے توازن و تناسب کے ساتھ قائم کیا ہے۔ اگر عدل و حق ملحوظ نہ رہے تو کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بندے بھی عدل وحق کے جادہ پر مستقیم رہیں۔ اور انصاف کی ترازو کو اٹھنے یا جھکنے نہ دیں، نہ کسی پر زیادتی کریں نہ کسی کا حق دبائیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ عدل ہی سے زمین و آسمان قائم ہیں۔