Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hadid — Ayah 10

57:10
وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا يَسۡتَوِي مِنكُم مَّنۡ أَنفَقَ مِن قَبۡلِ ٱلۡفَتۡحِ وَقَٰتَلَۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَعۡظَمُ دَرَجَةٗ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُواْ مِنۢ بَعۡدُ وَقَٰتَلُواْۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ١٠
اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور اللہ ہی کو بچ رہتی ہر شے آسمانوں میں اور زمین میں1 برابر نہیں تم میں جس نے کہ خرچ کیا فتح مکہ سے پہلے2 اور لڑائی کی اُن لوگوں کا درجہ بڑا ہے اُن سے جو کہ خرچ کریں اُسکے بعد اور لڑائی کریں اور سب سے وعدہ کیا ہے اللہ نے خوبی کا3 اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو4
Footnotes
  • [1] اللہ کی راہ میں کیوں خرچ نہیں کرتے:یعنی مالک فنا ہو جاتا ہے اور ملک اللہ کا بچ رہتا ہے اور ویسے تو ہمیشہ اسی کا مال تھا۔ پھر اس کے مال میں سے اس کے حکم کے موافق خرچ کرنا بھاری کیوں معلوم ہو؟ خوشی اور اختیار سے نہ دوگے تو بے اختیار اسی کے پاس پہنچے گا۔ بندگی کا اقتضاء یہ ہے کہ خوشدلی سے پیش کرے اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے فقروافلاس سے نہ ڈرے، کیونکہ زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک اللہ ہے۔ کیا اس کے راستہ میں خوشدلی سے خرچ کرنے والا بھوکا رہیگا؟ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِی الْعَرْشِ اِقْلَالَا ۔
  • [2] یعنی یوں تو اللہ کے راستہ میں کسی وقت بھی خرچ کیا جائے اور جہاد کیا جائے وہ اچھا ہے خدا اس کا بہترین بدلہ دنیا یا آخرت میں دیگا، لیکن جن مقدور والوں نے "فتح مکہ" یا "حدیبیہ" سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا، وہ بڑے درجے لے اڑے، بعد والے مسلمان ان کو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ وہ وقت تھا کہ حق کے ماننے والے اور اس پر لڑنیوالے اقل قلیل تھے۔ اور دنیا کافروں اور باطل پرستوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس وقت اسلام کو جانی اور مالی قربانیوں کی ضرورت زیادہ تھی اور مجاہدین کو بظاہر اسباب اموال و غنائم وغیرہ کی توقعات بہت کم۔ ایسے حالات میں ایمان لانا اور خدا کے راستہ میں جان و مال لٹا دینا بڑے اولوالعزم اور پہاڑ سے زیادہ ثابت قدم انسانوں کا کام ہے۔ فرضی اللہ عنہم و رضواعنہ ورزقنا اللہ اتباعہم وحبہم۔ اٰمین۔
  • [3] فتح مکہ سے پہلے کے مسلمانوں کا درجہ:اور بعض نے فتح سے مراد صلح حدیبیہ لی ہے۔ اور بعض روایات سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
  • [4] یعنی اللہ کو سب خبر ہے کہ کس کا عمل کس درجہ کا ہے اور اس میں اخلاص کا وزن کتنا ہے اپنے اسی علم کے موافق ہر ایک سے معاملہ کرے گا۔