Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hadid — Ayah 27

57:27
ثُمَّ قَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَۖ وَجَعَلۡنَا فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةٗ وَرَحۡمَةٗۚ وَرَهۡبَانِيَّةً ٱبۡتَدَعُوهَا مَا كَتَبۡنَٰهَا عَلَيۡهِمۡ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ رِضۡوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَاۖ فَـَٔاتَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنۡهُمۡ أَجۡرَهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ ٢٧
پھر پیچھے بھیجے اُنکے قدموں پر اپنے رسول1 اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی مریم کے بیٹے کو اور اُسکو ہم نے دی انجیل2 اور رکھ دی اُس کے ساتھ چلنے والوں کے دل میں نرمی اور مہربانی3 اور ایک ترک کرنا دنیا کا جو انہوں نے نئی بات نکالی تھی ہم نے نہیں لکھا تھا یہ اُن پر مگر کیاچاہنے کو اللہ کی رضامندی پھر نہ نباہا اُسکو جیسا چاہئے تھا نباہنا4 پھر دیا ہم نے اُن لوگوں کو جو اُن میں ایماندار تھے اُنکا بدلا اور بہت اُن میں نافرمان ہں5
Footnotes
  • [1] رہبانیت کی بدعت:یعنی آگے چل کر حضرت مسیحؑ کے متبعین نے بے دین بادشاہوں سے تنگ ہو کر اور دنیا کے مخمصوں سے گھبرا کر ایک بدعت رہبانیت کی نکالی، جس کا حکم اللہ کی طرف سے نہیں دیا گیا تھا۔ مگر نیت انکی یہ ہی تھی کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کریں۔ پھر اسکو پوری طرح نباہ نہ سکے۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یہ فقیری اور تارک الدنیا بننا، نصارٰی نے رسم نکالی، جنگل میں تکیہ بنا کر بیٹھے۔ نہ جورو رکھتے نہ بیٹا، نہ کماتے نہ جوڑتے، محض عبادت میں لگے رہتے، خلق سے نہ ملتے، اللہ نے بندوں کو یہ حکم نہیں دیا (کہ اس طرح دنیا چھوڑ کر بیٹھ رہیں) مگر جب اپنے اوپر ترک دنیا کا نام رکھا، پھر اس پردے میں دنیا چاہنا بڑا وبال ہے"۔ شریعت حقہ اسلامیہ نے اس اعتدال فطری سے متجاوز رہبانیت کی اجازت نہیں دی۔ ہاں بعض احادیث میں وارد ہوا ہے کہ اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ کیونکہ مجاہد اپنے سب حظوظ و تعلقات سے واقعی الگ ہو کر اللہ کے راستہ میں نکلتا ہے۔ (تنبیہ) "بدعت" کہتے ہیں ایسا کام کرنا جس کی اصل کتاب و سنت اور قرون مشہود لہا بالخیر میں نہ ہو۔ اور اسکو دین اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جائے۔
  • [2] یعنی پچھلے رسول ان ہی پہلوں کے نقش قدم پر تھے۔ اصولی حیثیت سے سب کی تعلیم ایک تھی۔
  • [3] یعنی آخر میں انبیائے بنی اسرائیل کے خاتم حضرت عیسٰیؑ کو انجیل دیکر بھیجا۔
  • [4] حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ماننے والوں کی نرم دلی اور مہربانی:یعنی حضرت مسیحؑ کے ساتھ جو واقعی انکے طریقہ پر چلنے والے تھے انکے دلوں میں اللہ نے نرمی رکھی تھی، وہ خلق خدا کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے تھے۔
  • [5] یعنی ان میں کے اکثر نافرمان ہیں۔ اسی لئے خاتم الانبیا ﷺ پر باوجود دل میں یقین رکھنے کے ایمان نہیں لاتے۔