Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mujadila — Ayah 22

58:22
لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٢٢
تو نہ پائے گا کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اُسکے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ ہوں یا اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے گھرانے کے اُنکے دلوں میں اللہ نے لکھ دیا ہے ایمان1 اور اُنکی مدد کی ہے اپنے غیب کے فیض سے2 اور داخل کرے گا اُنکو باغوں میں جنکے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے اُن میں اللہ اُن سے راضی اور وہ اُس سے راضی3 وہ لوگ ہیں گروہ اللہ کا سنتا ہے جو گروہ ہے اللہ کا وہی مراد کو پہنچے4
Footnotes
  • [1] اللہ کا گروہ:حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں۔ "یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں۔ ان کو یہ درجے ملتے ہیں"۔ صحابہؓ کی شان یہ ہی تھی کہ اللہ و رسول کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی، اسی سلسلہ میں ابو عبیدہؓ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔ جنگ "احد" میں ابوبکر صدیقؓ اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے مقابلہ میں نکلنے کو تیار ہوگئے، مصعبؓ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو، عمرؓ بن الخطاب نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو، علیؓ بن ابی طالب، حمزہ، عبیدۃ بن الحارث نے اپنے اقارب عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ نے جو مخلص مسلمان تھے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر آپ حکم دیں تو اپنے باپ کا سر کاٹ کر خدمت میں حاضر کروں۔ آپﷺ نے منع فرمادیا۔ فرضی اللہ تعالٰی عنہم ورضو اعنہ ورزقنا اللہ جہم واتباعہم واماتناعلیہ۔ آمین۔ تم سورۃ المجادلۃ فللّٰہ الحمد والمنہ۔
  • [2] مؤمنین کی اللہ کی طرف سے مدد:یعنی غیبی نور عطا فرمادیا جس سے قلب کو ایک خاص قسم کی معنوی حیات ملتی ہے یا روح القدوس (جبریلؑ) سے ان کی مدد فرمائی۔
  • [3] یعنی ایمان ان کے دلوں میں جما دیا اور پتھر کی لکیر کی طرح ثبت کردیا۔
  • [4] اللہ کی رضا:یعنی یہ لوگ اللہ کے واسطے سب سے ناراض ہوئے تو اللہ ان سے راضی ہوا۔ پھر جس سے اللہ راضی ہو اسے اور کیا چاہیئے۔