Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hashr — Ayah 14

59:14
لَا يُقَٰتِلُونَكُمۡ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرٗى مُّحَصَّنَةٍ أَوۡ مِن وَرَآءِ جُدُرِۭۚ بَأۡسُهُم بَيۡنَهُمۡ شَدِيدٞۚ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيعٗا وَقُلُوبُهُمۡ شَتَّىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡقِلُونَ ١٤
لڑ نہ سکیں گے تم سے سب مل کر مگر بستیوں کےکوٹ میں یا دیواروں کی اوٹ میں1 اُنکی لڑائی آپس میں سخت ہے2 تو سمجھے وہ اکھٹے ہیں اور اُنکے دل جدا جدا ہو رہے ہیں یہ اس لئے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے3
Footnotes
  • [1] آپس کی لڑائی میں سخت ہیں:یعنی آپس کی لڑائی میں بڑے تیز اور سخت ہیں جیسا کہ اسلام سے پہلے "اوس" و "خزرج" کی جنگ میں تجربہ ہو چکا، مگر مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کی ساری بہادری اور شیخی کرکری ہوجاتی ہے۔
  • [2] منافقین کے بزدلانہ طریقے:یعنی چونکہ ان لوگوں کے دل مسلمانوں سے مرعوب اور خوفزدہ ہیں، اس لئے کھلے میدان میں جنگ نہیں کرسکتے۔ ہاں گنجان بستیوں میں قلعہ نشین ہو کر یا دیواروں اور درختوں کی آڑ میں چھپ کر لڑ سکتے ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے، کہ یورپ نے مسلمانوں کی تلوار سے عاجز ہو کر قسم قسم کے آتشبار اسلحہ اور طریق جنگ ایجاد کئے ہیں۔ تاہم اب بھی اگر کسی وقت دست بدست جنگ کی نوبت آجاتی ہے تو چند ہی منٹ میں دنیا لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ کا مشاہدہ کرلیتی ہے۔ باقی اس قوم کا تو کہنا ہی کیا جس کے نزدیک چھتوں پر چڑھ کر اینٹ پتھر پھینکنا اور تیزاب کی پچکاریاں چلانا ہی سب سے بڑی علامت بہادری کی ہے۔
  • [3] کفار کا اتحاد دھوکہ ہے:یعنی مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کے ظاہری اتفاق و اتحاد سے دھوکہ مت کھاؤ۔ ان کے دل اندر سے پھٹے ہوئے ہیں، ہر ایک اپنی غرض و خواہش کا بندہ، اور خیالات میں ایک دوسرے سے جدا ہے پھر حقیقی یکجہتی کہاں میّسر آسکتی ہے۔ اگر عقل ہو تو سمجھیں کہ یہ نمائشی اتحاد کس کام کا۔ اتحاد اسے کہتے ہیں جو مومنین قانتین میں پایا جاتا ہے کہ تمام اغراض و خواہشات سے یکسو ہو کر سب نے ایک اللہ کی رسی کو تھام رکھا ہے، اور ان سب کا مرنا جینا اسی خدائے واحد کے لئے ہے۔