Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hashr — Ayah 2

59:2
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مِن دِيَٰرِهِمۡ لِأَوَّلِ ٱلۡحَشۡرِۚ مَا ظَنَنتُمۡ أَن يَخۡرُجُواْۖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمۡ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُواْۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعۡبَۚ يُخۡرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيۡدِيهِمۡ وَأَيۡدِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فَٱعۡتَبِرُواْ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ٢
وہی ہے جس نے نکال دیا اُنکو جو منکر ہیں کتاب والوں میں اُنکے گھروں سے1 پہلے ہی اجتماع پر لشکر کے2 تم نہ اٹکل کرتے تھے کہ نکلیں گے اور وہ خیال کرتے تھے کہ اُنکو بچا لیں گے اُنکے قلعے اللہ کے ہاتھ سے پھر پہنچا اُن پر اللہ جہاں سے اُنکو خیال نہ تھا اور ڈال دی اُنکے دلوں میں دھاک3 اجاڑنے لگے اپنے گھر اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں4 سو عبرت پکڑو اے آنکھ والو5
Footnotes
  • [1] بنو نضیر کا اخراج:مدینہ سے مشرقی جانب چند میل کے فاصلہ پر ایک قوم یہود بستی تھی جس کو "بنی نضیر" کہتے تھے۔ یہ لوگ بڑے جتھے والے اور سرمایہ دار تھے، اپنے مضبوط قلعوں پر ان کو ناز تھا۔ حضورﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو شروع میں انہوں نے آپﷺ سے صلح کا معاہدہ کرلیا، کہ ہم آپ کے مقابلہ پر کسی کی مدد نہ کریں گے۔ پھر مکہ کے کافروں سے نامہ و پیام کرنے لگے۔ حتّٰی کہ ان کے ایک بڑے سردارکعب بن اشرف نے چالیس سواروں کے ساتھ مکہ پہنچ کر بیت اللہ شریف کے سامنے مسلمانوں کے خلاف قریش سے عہدوپیمان باندھا۔ آخر چند روز بعد اللہ و رسول کے حکم سے محمد بن مسلمہ نے اس غدار کاکام تمام کردیا۔ پھر بھی "بنی نضیر" کی طرف سے بدعہدی کا سلسلہ جاری رہا۔ کبھی دغابازی سے حضور ﷺ کو چند رفیقوں کے ساتھ بلا کر اچانک قتل کرنا چاہا۔ ایک مرتبہ حضور ﷺجہاں بیٹھے تھے اوپر سے بھاری چکی کا پاٹ ڈال دیا، اگر لگے تو آدمی مر جائے۔ مگر سب مواقع پر اللہ کے فضل نے حفاظت فرمائی۔ آخر حضور ﷺ نے مسلمانوں کو جمع کیا۔ ارادہ یہ کہ ان سے لڑیں۔ جب مسلمانوں نے نہایت سرعت و مستعدی سے مکانوں اور قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔ وہ مرعوب و خوفزدہ ہوگئے۔ عام لڑائی کو نوبت نہ آئی۔ انہوں نے گھبرا کر صلح کی التجا کی۔ آخر یہ قرار پایا کہ وہ مدینہ خالی کر دیں۔ ان کی جانوں سے تعرض نہ کیا جائے گا۔ اور جو مال اسباب اٹھا کر لے جاسکتے ہیں، لے جائیں۔ باقی مکان زمین، باغ وغیرہ پر مسلمان قابض ہوئے۔ حق تعالیٰ نے وہ زمین مالِ غنیمت کی طرح تقسیم نہ کرائی۔ صرف حضرت کے اختیار پر رکھی۔ حضرت ﷺ نے اکثر اراضی مہاجرین پر تقسیم کر دی۔ اس طرح انصار پر سے ان کا خرچ ہلکا ہوا۔ اور مہاجرین و انصار دونوں کو فائدہ پہنچا۔ نیز حضرت ﷺ اپنے گھر کا اور واردوصادر کا سالانہ خرچ بھی اسی سے لیتے تھے اور جو بچ رہتا اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے تھے۔ اس سورت میں یہ ہی قصہ مذکور ہے۔
  • [2] یہود کے دلوں پر اللہ نے رعب ڈالدیا:یعنی ان کے سازوسامن مضبوط قلعے اور جنگجو یانہ اطوار دیکھ کر نہ تم کو اندازہ تھا کہ اس قدر جلد اتنی آسانی سے وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ اور نہ ان کو خیال تھا کہ مٹھی بھر بے سروسامان لوگ اس طرح قافیہ تنگ کر دیں گے۔ وہ اسی خواب خرگوش میں تھے کہ مسلمان (جن کے سروں پر اللہ کا ہاتھ ہے) ہمارے قلعوں تک پہنچنے کا حوصلہ نہ کرسکیں گے۔ اور اس طرح گویا اللہ کے ہاتھ سے بچ نکلیں گے۔ مگر انہوں نے دیکھ لیا کہ کوئی طاقت اللہ کے حکم کو نہ روک سکی۔ ان کے اوپر اللہ کا حکم وہاں سے پہنچا جہاں سے ان کو خیال و گمان بھی نہ تھا۔ یعنی دل کے اندر سے خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ اور بے سروسامان مسلمانوں کی دھاک بٹھلادی۔ ایک تو پہلے ہی اپنے سردار کعب بن اشرف کے ناگہانی قتل سے مرعوب و خوفزدہ ہو رہے تھے۔ اب مسلمانوں کے اچانک حملہ نے رہے سہے حواس بھے کھو دیئے۔
  • [3] بنونضیر کا واقعہ عبرت کا سبق ہے:یعنی اہلِ بصیرت کے لئے اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دکھلادیا کہ کفر، ظلم، شرارت اور بدعہدی کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ اور یہ کہ محض ظاہری اسباب پر تکیہ کرکے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے غافل ہو جانا عقلمند کاکام نہیں۔
  • [4] یہود کا پہلا حشر:یعنی ایک ہی ہلّہ میں گھبراگئےاور پہلی ہی مڈبھیڑ پر مکان اور قلعے چھوڑ کر نکل بھاگنے کو تیار ہو بیٹھے۔ کچھ بھی ثابت قدمی نہ دکھلائی۔ (تنبیہ) "اوّل الحشر" سے بعض مفسرین کے نزدیک یہ مراد ہے کہ اس قوم کے لئے اس طرح ترکِ وطن کرنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔ قبل ازیں ایسا واقعہ پیش نہ آیا تھا۔ یا "اوّل الحشر" میں اس طرف اشارہ ہو کہ ان یہود کا پہلا حشر یہ ہے کہ مدینہ چھوڑ کر بہت سے خیبر وغیرہ چلے گئے اور دوسرا حشر وہ ہو گا جو حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں پیش آیا۔ یعنی دوسرے یہودونصارٰی کی معیت میں یہ لوگ بھی خیبر سے ملک شام کی طرف نکالے گئے جہاں آخری حشر بھی ہونا ہے۔ اسی لئے "شام" کو "ارض المحشر" بھی کہتے ہیں۔
  • [5] بنو نضیر کا اپنے گھروں کا اجاڑنا:یعنی حرص اور غیظ و غضب کے جوش میں مکانوں کے کڑی، تختے کواڑ اکھاڑنے لگے تا کوئی چیز جو ساتھ لے جاسکتے ہیں رہ نہ جائے اور مسلمانوں کے ہاتھ نہ لگے۔ اس کام میں مسلمانوں نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔ ایک طرف سے وہ خود گراتے تھے دوسری طرف سے مسلمان۔ اور غور سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے ہاتھوں جو تباہی و ویرانی عمل میں آئی وہ بھی ان ہی بدبختوں کی بد عہدیوں اور شرارتوں کا نتیجہ تھی۔