Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hashr — Ayah 21

59:21
لَوۡ أَنزَلۡنَا هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ عَلَىٰ جَبَلٖ لَّرَأَيۡتَهُۥ خَٰشِعٗا مُّتَصَدِّعٗا مِّنۡ خَشۡيَةِ ٱللَّهِۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
اگر ہم اتارتے یہ قرآن ایک پہاڑ پر تو تُو دیکھ لیتا کہ وہ دب جاتا پھٹ جاتا اللہ کے ڈر سے1 اور یہ مثالیں ہم سناتے ہیں لوگوں کو تاکہ وہ غور کریں2
Footnotes
  • [1] قرآن کی عظمت سے پہاڑ پھٹ جاتے:یعنی مقام حسرت و افسوس ہے کہ آدمی کے دل پر قرآن کا اثر کچھ نہ ہو، حالانکہ قرآن کی تاثیر اس قدر زبردست اور قوی ہے کہ اگر وہ پہاڑ جیسی سخت چیز پر اتاراجاتا اور اس میں سمجھ کا مادہ موجود ہوتا تو وہ بھی متکلم کی عظمت کے سامنے دب جاتا اور مارے خوف کے پھٹ کر پارہ پارہ ہو جاتا۔ میرے والد مرحوم نے ایک طویل نظم کے ثمن میں یہ تین شعر لکھے تھے۔ سنتے سنتے نغمہ ہائے محفلِ بدعات کو کان بہرے ہوگئے دل بدمزہ ہونے کو ہے آؤ سنوائیں تمہیں وہ نغمہ مشروع بھی پارہ جسکے لحن سے طور ہدیٰ ہونے کو ہے حیف گرتاثیر اسکی تیرے دل پر کچھ نہ ہو کوہ جس سے خشعًا متصدعًا ہونے کو ہے
  • [2] حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ "یعنی کافروں کے دل برے سخت ہیں کہ یہ کلام سن کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ اگر پہاڑ سمجھے تو وہ بھی دب جائے" (تنبیہ) یہ تو کلام کی عظمت کا ذکر تھا۔ آگے متکلم کی عظمت و رفعت کا بیان ہے۔