Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Hashr — Ayah 9

59:9
وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلۡإِيمَٰنَ مِن قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّونَ مَنۡ هَاجَرَ إِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمۡ حَاجَةٗ مِّمَّآ أُوتُواْ وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٩
اور جو لوگ جگہ پکڑ رہے ہیں اس گھر میں اور ایمان میں ان سے پہلے سے1 وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو وطن چھوڑ کر آئے انکے پاس2 اور نہیں پاتے اپنے دل میں تنگی اس چیز سے جو مہاجرین کو دی جائے اور مقدم رکھتے ہیں اُنکو اپنی جان سے اور اگر چہ ہو اپنے اوپر فاقہ3 اور جو بچایا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو وہ لوگ ہیں مراد پانے والے 4
Footnotes
  • [1] بخل سے نجات فلاح ہے:یعنی بڑے کامیاب اور بامراد ہیں وہ لوگ جن کو اللہ کی توفیق و دستگیری نے ان کے دل کے لالچ اور حرص وبخل سے محفوظ رکھا۔ لالچی اور بخیل آدمی اپنے بھائیوں کے لئے کہاں ایثار کرسکتا ہے اور دوسروں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر کب خوش ہوتا ہے؟
  • [2] انصار کا جذبہ ایثار و خلوص:یعنی مہاجرین کو اللہ تعالیٰ جو فضل و شرف عطا فرمائے یا اموال فئ وغیرہ میں سے حضور ﷺ جو کچھ عنایت کریں، اسے دیکھ کر انصار کے دل تنگ نہیں ہوتے نہ حسد کرتے ہیں۔ بلکہ خوش ہوتے ہیں اور ہر اچھی چیز میں ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں۔ خود سختیاں اور فاقے اٹھا کر بھی اگر ان کو بھلائی پہنچا سکیں تو دریغ نہیں کرتے۔ ایسا بیمثال ایثار آج تک دنیا کی کس قوم نے کس قوم کے لئے دکھلایا۔
  • [3] انصار مدینہ کے فضائل:اس گھر سے مراد ہے مدینہ طیبہ۔ اور یہ لوگ انصار مدینہ ہیں جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینہ میں سکونت پذیر تھے۔ اور ایمان و عرفان کی راہوں پر بہت مضبوطی کے ساتھ مستقیم ہو چکے تھے۔
  • [4] یعنی محبت کے ساتھ مہاجرین کی خدمت کرتے ہیں حتّٰی کہ اپنے اموال وغیرہ میں ان کو برابر کا شریک بنانے کے لئے تیار ہیں۔