Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mumtahanah — Ayah 10

60:10
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا جَآءَكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ مُهَٰجِرَٰتٖ فَٱمۡتَحِنُوهُنَّۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِهِنَّۖ فَإِنۡ عَلِمۡتُمُوهُنَّ مُؤۡمِنَٰتٖ فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلۡكُفَّارِۖ لَا هُنَّ حِلّٞ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّۖ وَءَاتُوهُم مَّآ أَنفَقُواْۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّۚ وَلَا تُمۡسِكُواْ بِعِصَمِ ٱلۡكَوَافِرِ وَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقۡتُمۡ وَلۡيَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقُواْۚ ذَٰلِكُمۡ حُكۡمُ ٱللَّهِ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡۖ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ١٠
اے ایمان والو جب آئیں تمہارے پاس ایمان والی عورتیں وطن چھوڑ کر تو ان کو جانچ لو اللہ خوب جانتا ہے انکے ایمان کو1 پھر اگر جانو کہ وہ ایمان پر ہیں تو مت پھیرو اُنکو کافروں کی طرف نہ یہ عورتیں حلال ہیں اُن کافروں کو اور نہ وہ کافر حلال ہیں ان عورتوں کو اور دیدو اُن کافروں کو جو ان کا خرچ ہوا ہو اور گناہ نہیں تم کو کہ نکاح کر لو اُن عورتوں سے جب اُنکو دو انُکے مہر2 اور نہ رکھو اپنے قبضہ میں ناموس کافر عورتوں کے اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا اور وہ کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا یہ اللہ کا فیصلہ ہے تم میں فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے3
Footnotes
  • [1] مسلمانوں کی کافر بیویوں کا مسئلہ:پہلے حکم کے مقابل دوسری طرف یہ حکم ہوا کہ جس مسلمان کی عورت کافر رہ گئ ہے وہ اس کو چھوڑ دے۔ پھر جو کافر اس سے نکاح کرے اس مسلمان کا خرچ کیا ہوا مہر واپس کرے۔ اس طرح دونوں فریق ایک دوسرے سے اپنا حق طلب کرلیں۔ جب یہ حکم اترا تو مسلمان تیار ہوئے دینے کو بھی اور لینے کو بھی لیکن کافروں نے دینا قبول نہ کیا۔ تب اگلی آیت نازل ہوئی۔
  • [2] مکہ کی مسلمان عورتوں کا امتحان:یعنی دل کا حال تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ لیکن ظاہری طور سے ان عورتوں کی جانچ کرلیا کرو۔ آیا واقعی وہ مسلمان ہیں اور محض اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر آئی ہیں۔ کوئی دنیوی یا نفسانی غرض تو ہجرت کا سبب نہیں ہوا۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت عمرؓ ان کا امتحان کرتے تھے۔ اور حضورﷺ کی طرف سے ان سے بیعت لیتے تھے۔ اور کبھی حضور ﷺ خود بہ نفسِ نفیس بیعت لیا کرتے تھے جو آگے یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ الخ میں مذکور ہے۔
  • [3] ان عورتوں سے نکاح کی شرائط:یہ حکم ہوا کہ زوجین میں اگر ایک مسلمان اور دوسرا مشرک ہو تو اختلاف دارین کے بعد تعلق نکاح قائم نہیں رہتا۔ پس اگر کسی کافر کی عورت مسلمان ہو کر "دارالاسلام" میں آجائے تو جو مسلمان اس سے نکاح کرے اس کے ذمہ ہے کہ اس کافر نے جتنا مہر عورت پر خرچ کیا تھا وہ اسے واپس کردے۔ اور اب عورت کا جو مہر قرار پائے وہ جدا اپنے ذمہ رکھے تب نکاح میں لاسکتا ہے۔