Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mumtahanah — Ayah 12

60:12
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِذَا جَآءَكَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ يُبَايِعۡنَكَ عَلَىٰٓ أَن لَّا يُشۡرِكۡنَ بِٱللَّهِ شَيۡـٔٗا وَلَا يَسۡرِقۡنَ وَلَا يَزۡنِينَ وَلَا يَقۡتُلۡنَ أَوۡلَٰدَهُنَّ وَلَا يَأۡتِينَ بِبُهۡتَٰنٖ يَفۡتَرِينَهُۥ بَيۡنَ أَيۡدِيهِنَّ وَأَرۡجُلِهِنَّ وَلَا يَعۡصِينَكَ فِي مَعۡرُوفٖ فَبَايِعۡهُنَّ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُنَّ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٢
اے نبی جب آئیں تیرے پاس مسلمان عورتیں بیعت کرنے کو اس بات پر کہ شریک نہ ٹھہرائیں اللہ کا کسی کو اور چوری نہ کریں اور بدکاری نہ کریں اور اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں1 اور طوفان نہ لائیں باندھ کر اپنے ہاتھوں اور پاؤں میں2 اور تیری نافرمانی نہ کریں کسی بھلے کام میں تو اُنکو بیعت کر لے3 اور معافی مانگ اُنکے واسطے اللہ سے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے4
Footnotes
  • [1] عورتوں کی بیعت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکا طریقہ:پہلے فرمایا تھا کہ مسلمان عورتوں کی (جو ہجرت کر کے آئیں) جانچ کی جائے۔ یہاں بتلادیا کہ ان کا جانچنا یہی ہے کہ جو احکام اس آیت میں ہیں وہ قبول کرلیں تو ان کا ایمان ثابت رکھو۔ یہ آیت بیعت کہلاتی ہے۔ حضرت ﷺ کے پاس عورتیں بیعت کرتی تھیں تو یہی اقرار لیتے تھے لیکن بیعت کے وقت کبھی عورت کے ہاتھ نے آپﷺ کے ہاتھ کو مس نہیں کیا۔
  • [2] عورتوں کے لئے استغفار کا حکم:یعنی ان امور میں جو کوتاہیاں پہلے ہو چکیں یا امتثال احکام میں آئندہ کچھ تقصیر رہ جائے اس کے لئےآپ انکے حق میں دعائے مغفرت فرمائیں۔ اللہ آپ کی برکت سے ان کی تقصیر معاف فرمائے گا۔
  • [3] عورتوں کو بیعت کرنے کی شرائط:جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا کہ رسمی ننگ و عار کی وجہ سے لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے اور بعض اوقات فقروفاقہ کے خوف سے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے۔
  • [4] طوفان باندھنا ہاتھ پاؤں میں، یہ کہ کسی پر جھوٹا دعویٰ کریں یا جھوٹی گواہی دیں یا کسی معاملہ میں اپنی طرف سے بنا کر جھوٹی قسم کھائیں، اور ایک معنی یہ کہ بیٹا جنا ہو کسی اور سے اور منسوب کردیں خاوند کی طرف، یا کسی دوسری عورت کی اولاد لے کر مکروفریب سے اپنی طرف نسبت کرلیں۔ حدیث میں ہے کہ جو کوئی ایک کا بیٹا دوسرے کی طرف لگائے جنت اس پر حرام ہے۔