Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mumtahanah — Ayah 4

60:4
قَدۡ كَانَتۡ لَكُمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذۡ قَالُواْ لِقَوۡمِهِمۡ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُاْ مِنكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةُ وَٱلۡبَغۡضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥٓ إِلَّا قَوۡلَ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمۡلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۖ رَّبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَإِلَيۡكَ أَنَبۡنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ ٤
تم کو چال چلنی چاہئیے اچھی ابراہیم کی اور جو اُسکے ساتھ تھے جب انہوں نے کہا اپنی قوم کو ہم الگ ہیں تم سے اور اُن سے کہ جنکو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے1 ہم منکر ہوئے تم سے2 اور کھل پڑی ہم میں اور تم میں دشمنی اور بیر ہمیشہ کو یہاں تک کہ تم یقین لاؤ اللہ اکیلے پر3 مگر ایک کہنا ابراہیم کا اپنے باپ کو کہ میں مانگوں گا معافی تیرے لئے اور مالک نہیں میں تیرے نفع کا اللہ کے ہاتھ سے کسی چیز کا4 اے رب ہمارے ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری طرف ہے سب کو پھر آنا5
Footnotes
  • [1] حضرت ابرہیم علیہ السلام کی دعا:یعنی سب کو چھوڑ کر تجھ پر بھروسہ کیا اور قوم سے ٹوٹ کر تیری طرف رجوع ہوئے اور خوب جانتے ہیں کہ سب کو پھر کر تیری ہی طرف آنا ہے۔
  • [2] حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ حسنہ:یعنی جو لوگ مسلمان ہو کر ابراہیمؑ کے ساتھ ہوتے گئے اپنے اپنے وقت پر سب نے قولًا یا فعلًا اسی علیحدگی اور بیزاری کا اعلان کیا۔
  • [3] یعنی تم اللہ سے منکر ہو۔ اور اس کے احکام کی پروا نہیں کرتے۔ ہم تمہارے طریقہ سے منکر ہیں۔ اور ذرّہ برابر تمہاری پروا نہیں کرتے۔
  • [4] یعنی یہ دشمنی اور بیر اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب تم شرک چھوڑ کر اسی ایک آقا کے غلام بن جاؤ جس کے ہم ہیں۔
  • [5] حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے باپ سے دعا کا وعدہ:یعنی صرف دعا ہی کرسکتا ہوں کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ خدا جو کچھ پہنچانا چاہے۔ اسے میں نہیں روک سکتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں " یعنی ابراہیمؑ نے ہجرت کی پھر اپنی قوم کی طرف منہ نہیں کیا۔ تم بھی وہی کرو۔ ایک ابراہیمؑ نے دعا چاہی تھی، باپ کے واسطے۔ جب تک معلوم نہ تھا۔ تم کو معلوم ہو چکا۔ لہٰذا تم کافر کی بخشش نہ مانگو"۔ (تنبیہ) باپ کے حق میں ابراہیمؑ کے استغفار کا قصہ سورۃ "براءۃ" میں گزر چکا۔ آیت وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّ عَدَہَاۤ اِیَّاہُ (توبہ۔۱۱۴) الخ کے فوائد میں دیکھ لیا جائے۔