Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah As-Saf — Ayah 4

61:4
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ ٤
اللہ چاہتا ہے اُن لوگوں کو جو لڑتے ہیں اُسکی راہ میں قطار باندھ کر گویا وہ دیوار ہیں سیسہ پلائی ہوئی1
Footnotes
  • [1] زبانی دعووں کی مذمت:بندہ کو لاف زنی اور دعوے کی بات سے ڈرنا چاہیئے کہ پیچھے مشکل پڑتی ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے، لیکن اس کا نباہنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض اور بیزار ہوتا ہے جو زبان سے کہے بہت کچھ اور کرے کچھ نہیں۔ روایات میں ہے کہ ایک جگہ مسلمان جمع تھے، کہنے لگے ہم کو اگر معلوم ہوجائے کہ کونسا کام اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے تو وہی اختیار کریں۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ یعنی دیکھو! سنبھل کر کہو، لو ہم بتلائے دیتے ہیں۔ جہاد میں دیوار کی طرح ڈٹنے والے: کہ اللہ کو سب سے زیادہ ان لوگوں سے محبت ہے جو اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں کے مقابلہ پر ایک آہنی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے ہیں اور میدان جنگ میں اس شان سے صف آرائی کرتے ہیں کہ گویا وہ سب مل کر ایک مضبوط دیوار ہیں جس میں سیسہ پگھلا دیا گیا ہے، اور جس میں کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں پڑسکتا۔ اب اس معیار پر اپنے کو پرکھ لو۔ بیشک تم میں بہت ایسے ہیں جو اس معیار پرکامل و اکمل اتر چکے ہیں مگر بعض مواقع ایسے بھی نکلیں گے جہاں بعضوں کے زبانی دعووں کی انکے عمل نے تکذیب کی ہےآخر جنگ احد میں وہ بُنیان مرصوص کہاں قائم رہی۔ اور جس وقت حکم قتال اترا تو یقیناً بعض نے یہ بھی کہا رَبَّنَا لِمَ کَتَبۡتَ عَلَیۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ الخ (نساء۔۷۷) بہرحال زبان سے زیادہ دعوے مت کرو۔ بلکہ خدا کی راہ میں قربانی پیش کرو جس سے اعلیٰ کامیابی نصیب ہو۔ موسٰی کی قوم کو نہیں دیکھتے کہ زبان سے تعلی و تفاخر کی باتیں بہت بڑھ چڑھ کر بناتے تھے لیکن عمل کے میدان میں صفر تھے۔ جہاں کوئی موقع کام کا آیا فوراً پھسل گئے اور نہایت تکلیف دہ باتیں کرنے لگے۔ نتیجہ جو کچھ ہوا اس کو آگے بیان فرماتے ہیں۔