Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Jumu'ah — Ayah 11

62:11
وَإِذَا رَأَوۡاْ تِجَٰرَةً أَوۡ لَهۡوًا ٱنفَضُّوٓاْ إِلَيۡهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمٗاۚ قُلۡ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ مِّنَ ٱللَّهۡوِ وَمِنَ ٱلتِّجَٰرَةِۚ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ١١
اور جب دیکھیں سودا بکتا یا کچھ تماشا متفرق ہو جائیں اُسکی طرف اور تجھ کو چھوڑ جائیں کھڑا تو کہہ جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے تماشے سے اور سوداگری سے اور اللہ بہتر ہے روزی دینے والا1
Footnotes
  • [1] لہو وتجارت پر مسلمانوں کو تنبیہہ:ایک مرتبہ جمعہ میں حضرت ﷺ خطبہ فرما رہے تھے، اسی وقت تجارتی قافلہ باہر سے غلہ لے کر آپہنچا۔ اس کے ساتھ اعلان کی غرض سے نقارہ بجتا تھا۔ پہلے سے شہر میں اناج کی کمی تھی۔ لوگ دوڑے کہ اس کو ٹھہرائیں (خیال کیا ہوگا کہ خطبہ کا حکم عام وعظوں کی طرح ہے جس میں سے ضرورت کے لئے اٹھ سکتے ہیں۔ نماز پھر آکر پڑھ لینگے۔ یا نماز ہوچکی ہوگی جیسا کہ بعض کا قول ہے کہ اس وقت نماز جمعہ خطبہ سے پہلے ہوتی تھی۔ بہرحال خطبہ کا حکم معلوم نہ تھا) اکثر لوگ چلے گئے حضرت ﷺ کے ساتھ بارہ آدمی (جن میں خلفاء راشدین بھی تھے) باقی رہ گئے۔ اس پر یہ آیت اتری یعنی سوداگری اور دنیا کا کھیل تماشا کیا چیز ہے، وہ ابدی دولت حاصل کرو جو اللہ کے پاس ہے اور جو پیغمبر کی صحبت اور مجالس ذکر و عبادت میں ملتی ہے۔ باقی قحط کی وجہ سے روزی کا کھٹکا جس کی بناء پر اٹھ کر چلے گئے، سو یاد رکھو روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہی بہترین روزی دینے والا ہے۔ اس مالک کے غلام کو یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیئے۔ اس تنبیہ و تادیب کے بعد صحابہؓ کی شان وہ تھی جو سورۃ "نور" میں ہے رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ (النور۔۳۷)۔ (تنبیہ) "لہو" کہتے ہیں ہر اس چیز کو جو اللہ کی یاد سے مشغول کر دے جیسے کھیل تماشہ۔ شاید اس نقارہ کی آواز کو "لہو" سے تعبیر فرمایا ہو۔ تم سورۃ الجمعۃ فللّٰہ الحمد والمنہ۔