Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Jumu'ah — Ayah 7

62:7
وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهُۥٓ أَبَدَۢا بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٧
اور وہ کبھی نہ منائیں گے اپنا مرنا اُن کاموں کی وجہ سے جنکو آگے بھیج چکے ہیں اُنکے ہاتھ اور اللہ کو خوب معلوم ہیں سب گنہگار1
Footnotes
  • [1] یہود کی ولایت کا جھوٹا دعویٰ:یعنی اس گدھے پن اور جہل و حماقت کے باوجود دعویٰ یہ ہے کہ بلا شرکت غیرے ہم ہی اللہ کے دوست اور ولی اور تنہا جنت کے حقدار ہیں بس دنیا سے چلے اور جنت میں پہنچے۔ لیکن اگر واقعی دل میں یہ ہی یقین ہے اور اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ضرور تھا کہ دنیا کے مکدر عیش سے دل برداشتہ ہر کر محبوب حقیقی کے اشتیاق اور جنت الفردوس کی تمنا میں مرنے کی آرزو کرتے۔ جس کو یقینًا معلوم ہوجائے کہ میرا اللہ کے ہاں بڑا درجہ ہے اور کوئی خطرہ نہیں۔ وہ بیشک مرنے سے خوش ہوگا اور موت کو ایک پُل سمجھے گا۔ جو دوست کو دوست سے ملاتا ہے اس کی زبان پر تو یہ الفاظ ہوں گے غدًا نَلْقِیَ الْاَحِبَّۃٗ مُحَمَّدًا وَّ حِزْبَہٗ اور یاحَبَّذَا الجنّۃُ واقترابھا، طیبۃ وباردشرابھا اور حبیبٌ جاء علیٰ فاقۃٍ اور یا بنیّ لایُبَالی ابوک سقط علی الموت ام سقط علیہ الموت وغیرذٰلک ۔ اولیاء اللہ اور موت کا اشتیاق: یہ ان اولیاء اللہ کے کلمات ہیں جو دنیا کی کسی سختی یا مصیبت سے گھبرا کر نہیں، خالص لقاء اللہ اور جنت کے اشتیاق میں موت کی تمنا رکھتے تھے، اور ان کے افعال و حرکات خود شہادت دیتے تھے کہ موت ان کو دنیا کی تمام لذائذ سے زیادہ لذیذ ہے۔ قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لودوت انی اُقْتَلُ فی سبیل اللّٰہِ ثم اُحْیٰی ثم اُقْتَلُ اس کے بالمقابل ان جھوٹے مدعیوں کے افعال و حرکات پر نظر ڈالو کہ ان سے بڑھ کر موت سے ڈرنے والا کوئی نہیں۔ وہ مرنے کا نام سن کر گھبراتے اور بھاگتے ہیں، اس لئے نہیں کہ زیادہ دن زندہ رہیں تو زیادہ نیکیاں کمائیں گے۔ محض اس لئے کہ دنیا کی حرص سے ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اور دل میں سمجھتے ہیں کہ جو کرتوت کئے ہیں، یہاں سے چھوٹتے ہی ان کی سزا میں پکڑے جائیں گے۔ غرض ان کے تمامی افعال و اطوار سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ وہ ایک لمحہ کے لئے موت کی آرزو نہیں کرسکتے۔ اور ممکن تھا کہ اس زمانہ کے یہود قرآن کے اس دعوے کو جھٹلانے کے لئے جھوٹ موٹ زبان سے موت کی تمنّا کرنے لگتے، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ قدرت بھی ان کو نہ دی۔ روایات میں ہے کہ اگر (ان میں سے) کوئی یہودی موت کی تمنا کر گزرتا تو اسی وقت گلے میں اچھو لگ کر ہلاک ہو جاتا (تنبیہ) اس مضمون کی آیت سورۃ "بقرہ" میں گذرچکی ہے، اس کے فوائد دیکھ لئے جائیں بعض سلف کے نزدیک "تمنی موت" کا مطلب مباہلہ تھا۔ یعنی معاند یہود سے کہا گیا کہ اگر وہ واقعی اپنے اولیاء ہونے کا یقین رکھتے ہیں اور مسلمانوں کو باطل پر سمجھتے ہیں تو تمنا کریں کہ فریقین میں جو جھوٹا ہو، مرجائے لیکن وہ کبھی ایسا نہ کریں گے کیونکہ ان کو اپنے کذب و ظلم کا یقین حاصل ہے۔ ابن کثیرؒ اور ابن قیمؒ وغیرہ نے یہ ہی توجیہہ اختیار کی ہے۔ واللہ اعلم۔