Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Munafiqun — Ayah 11

63:11
وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَاۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١١
اور ہرگز نہ ڈھیل دے گا اللہ کسی جی کو جب آ پہنچا اُس کا وعدہ1 اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو2
Footnotes
  • [1] اس کو یہ بھی خبر ہے کہ اگر بالفرض تمہاری موت ملتوی کر دی جائے یا محشر سے پھر دنیا کی طرف واپس کریں تب تم کیسے عمل کرو گے۔ وہ سب کی اندرونی استعدادوں کو جانتا ہے اور سب کے ظاہری و باطنی اعمال سے پوری طرح خبردار ہے۔ اسی کے موافق ہر ایک سے معاملہ کریگا۔
  • [2] موت سے پہلے انفاق کر لو:یہ شاید منافقوں کے قول لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰی مَنۡ عِنۡدَ الخ کا جواب ہوا کہ خرچ کرنے میں خود تمہارا بھلا ہے جو کچھ صدقہ خیرات کرنا ہے جلدی کرو، ورنہ موت سر پر آپہنچی تو پچتاؤ گے کہ ہم نے کیوں خدا کے راستہ میں خرچ نہ کیا۔ اس وقت (موت کے قریب) بخیل تمنا کریگا کہ اے پروردگار! چند روز اور میری موت کو ملتوی کر دیتے کہ میں خوب صدقہ خیرات کر کے اور نیک بن کر حاضر ہوتا۔ لیکن وہاں التوا کیسا؟ جس شخص کی جس قدر عمر لکھدی اور جو میعاد مقرر کردی ہے، اسکے پورا ہوجانے پر ایک لمحہ کی ڈھیل اور تاخیر نہیں ہوسکتی۔ (تنبیہ) ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ وہ اس تمنا کو قیامت کے دن پر حمل کرتے ہیں یعنی محشر میں یہ آرزو کریگا کہ کاش مجھے پھر دنیا کی طرف تھوڑی مدت کے لئے لوٹا دیا جائے تو خوب صدقہ کر کے اور نیک بن کر آؤں۔