Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Munafiqun — Ayah 4

63:4
۞ وَإِذَا رَأَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ أَجۡسَامُهُمۡۖ وَإِن يَقُولُواْ تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡۖ كَأَنَّهُمۡ خُشُبٞ مُّسَنَّدَةٞۖ يَحۡسَبُونَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡۚ هُمُ ٱلۡعَدُوُّ فَٱحۡذَرۡهُمۡۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ ٤
اور جب تو دیکھے اُنکو تو اچھے لگیں تجھ کو انکے ڈیل اور اگر بات کہیں سنے تو اُنکی بات1 کیسے ہیں جیسے کہ لکڑی لگا دی دیوار سے2 جو کوئی چیخے جانیں ہم ہی پر بلا آئی3 وہی ہیں دشمن اُن سے بچتا رہ4 گردن مارے انکی اللہ کہاں سے پھرے جاتے ہیں5
Footnotes
  • [1] دیوار سے لگی خشک لکڑی کی مثال:خشک اور بیکار لکڑی جو دیوار سے لگا کر کھڑی کردی جائے محض بیجان اور لایعقل، دیکھنے میں کتنی موٹی، مگر ایک منٹ بھی بدون سہارے کے کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ہاں ضرورت پڑے تو جلانے کے کام آسکتی ہے۔ یہ ہی حال ان لوگوں کا ہے۔ ان کے موٹے فربہ جسم، اور تن و توش سب ظاہری خول ہیں، اندر سے خالی اور بیجان، محض دوزخ کا ایندھن بننے کے لائق۔
  • [2] منافقین کی بزدلی:یعنی بزدل ، نامرد ڈرپوک، ذرا کہیں شوروغل ہو تو دل دہل جائے۔ سمجھیں کہ ہم ہی پر کوئی بلا آئی۔ سنگین جرموں اور بے ایمانیوں کی وجہ سے ہر وقت ان کے دل میں دغدغہ لگا رہتا ہے کہ دیکھیے کہیں ہماری دغابازیوں کا پردہ تو چاک نہیں ہوگیا۔ یا ہماری حرکات کی پاداش میں کوئی افتاد تو پڑنے والی نہیں۔
  • [3] یعنی بڑے خطرناک دشمن یہ ہی ہیں ان کی چالوں سے ہشیار رہو۔
  • [4] یعنی ایمان کا اظہار کرکے یہ بے ایمانی، اور حق و صداقت کی روشنی آچکنے کے بعد یہ ظلمت پسندی کس قدر عجیب ہے۔
  • [5] منافقین کا ظاہر و باطن:یعنی دل تو مسخ ہو چکے ہیں لیکن جسم دیکھو تو بہت ڈیل ڈول کے، چکنے چپڑے، بات کریں تو بہت فصاحت اور چرب زبانی سے، نہایت لچھے دار کہ خواہ مخواہ سننے والا ادھر متوجہ ہو۔ اور کلام کی ظاہری سطح دیکھ کر قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ کسی نے خوب کہا ہے؎ ازبروں چوں گورکافر پرخلل واندروں قہر خدائے عزوجل ازبروں طعنہ زنی بربایزید وازدرونت ننگ میداردیزید