Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Munafiqun — Ayah 7

63:7
هُمُ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُواْ عَلَىٰ مَنۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّواْۗ وَلِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَفۡقَهُونَ ٧
وہی ہیں جو کہتے ہیں مت خرچ کرو ان پر جو پاس رہتے ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ متفرق ہو جائیں1 اور اللہ کے ہیں خزانے آسمانوں کے اور زمین کے ولیکن منافق نہیں سمجھتے2
Footnotes
  • [1] عبداللہ بن اُبّی کی شرارت:ایک سفر میں دو شخص لڑ پڑے ایک مہاجرین میں کا اور ایک انصار کا۔ دونوں نے اپنی حمایت کے لئے اپنی جماعت کو پکارا جس پر خاصا ہنگامہ ہوگیا۔ یہ خبر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابیّ کو پہنچی کہنے لگا اگر ہم ان مہاجرین، کو اپنے شہر میں جگہ نہ دیتے تو ہم سے مقابلہ کیوں کرتے تم ہی خبر گیری کرتے ہو تو یہ لوگ رسول کے ساتھ جمع رہتے ہیں، خبر گیری چھوڑ دو، ابھی خرچ سے تنگ آکر متفرق ہو جائیں، اور سب مجمع بچھڑ جائے۔ یہ بھی کہا کہ اس سفر سے واپس ہو کر ہم مدینہ پہنچیں تو جس کا اس شہر میں زور و اقتدار ہے چاہیئے ذلیل بے قدروں کو نکال دے (یعنی ہم جو معزز لوگ ہیں ذلیل مسلمانوں کو نکال دینگے) ایک صحابی زیدبن ارقمؓ نے یہ باتیں سن کر حضرت ﷺ کے پاس نقل کردیں۔ آپ ﷺ نے عبداللہ بن اُبّی وغیرہ کو بلا کر تحقیق کی تو قسمیں کھا گئے کہ زید بن ارقمؓ نے ہماری دشمنی سے جھوٹ کہہ دیا ہے۔ لوگ زیدؓ پر آوازے کسنے لگے وہ بیچارے سخت محجوب اور نادم تھے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں حضور ﷺ نے زیدؓ کو فرمایا کہ اللہ نے تجھے سچا کیا۔
  • [2] زمین کے سارے خزانوں کا مالک اللہ ہے:یعنی احمق اتنا نہیں سمجھتے کہ تمام آسمان و زمین کے خزانوں کا مالک تو اللہ ہے کیا جو لوگ خالص اس کی رضا جوئی کے لئے اس کے پیغمبر کی خدمت میں رہتے ہیں وہ ان کو بھوکوں مار دیگا، اور لوگ اگر ان کی امداد بند کرلینگے تو وہ بھی اپنی روزی کے سب دروازے بند کرلیگا؟ سچ تو یہ ہے کہ جو بندے ان اللہ والوں پر خرچ کر رہے ہیں وہ بھی اللہ ہی کراتا ہے۔ اس کی توفیق نہ ہو تو نیک کام میں کوئی ایک پیسہ خرچ نہ کرسکے۔