Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Talaq — Ayah 1

65:1
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحۡصُواْ ٱلۡعِدَّةَۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ رَبَّكُمۡۖ لَا تُخۡرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخۡرُجۡنَ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهُۥۚ لَا تَدۡرِي لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذَٰلِكَ أَمۡرٗا ١
اے نبی جب تم طلاق دو عورتوں کو تو انکو طلاق دو اُنکی عدت پر1 اور گنتے رہو عدت کو 2 اور ڈرو اللہ سے جو رب ہے تمہارا مت نکالو اُنکو اُنکے گھروں سے3 اور وہ بھی نہ نکلیں مگر جو کریں صریح بے حیائی4 اور یہ حدیں ہیں باندھی ہوئی اللہ کی اور جو کوئی بڑھے اللہ کی حدوں سے تو اُس نے برا کیا اپنا5 اُسکو خبر نہیں6 شاید اللہ پیدا کر دے اُس طلاق کے بعد نئی صورت7
Footnotes
  • [1] طلاق دینے کا صحیح طریقہ:نبی کو مخاطب بنا کر یہ ساری امت سے خطاب ہے یعنی جب کوئی شخص (کسی ضرورت اور مجبوری سے) اپنی عورت کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو چاہیئے کہ عدت پر طلاق دے۔ سورہ "بقرہ" میں آچکا کہ مطلقہ کی عدت تین حیض ہیں (کماہو مذہب الحنفیہ) لہٰذا حیض سے پہلے حالت طہر میں طلاق دینا چاہیئے تا سارا حیض گنتی میں آئے اگر فرض کیجئے حالت حیض میں طلاق دیگا تو دو حال سے خالی نہیں۔ جس حیض میں طلاق دی ہے اس کو عدت میں شمار کریں گے یا نہ کریں گے۔ پہلی صورت میں ایقاع طلاق سے پہلے جس قدر وقت حیض کا گذر چکا وہ عدت میں سے کم ہوجائے گا۔ اور پورے تین حیض عدت کے باقی رہیں گے۔ اور دوسری صورت میں جب موجودہ حیض کے علاوہ تین حیض لیں گے تو یہ حیض تین سے زائد ہوگا۔ طُہر میں طلاق دو: اس لئے مشروع طریقہ یہ ہے کہ طُہر میں طلاق دی جائے۔ اور حدیث سے یہ قید بھی ثابت ہے کہ اُس طہر میں صحبت نہ کی ہو۔
  • [2] بے وجہ گھر سے نہ نکلیں:یعنی عورتیں خود بھی اپنی مرضی سے نہ نکلیں۔ کیونکہ یہ سکنیٰ محض حق العبد نہیں کہ اس کی رضاء سے ساقط ہو جائے بلکہ حق الشرع ہے، ہاں کوئی کھلی بے حیائی کریں مثلًا بدکاری یا سرقہ کی مرتکب ہوں یا بقول بعض علماء زبان درازی کریں اور ہر وقت کا رنج و تکرار رکھتی ہوں تو نکالنا جائز ہے اور اگر بے وجہ نکلیں گی تو یہ خود صریح بے حیائی کا کام ہوگا۔
  • [3] مطلقہ کو گھر سے نہ نکالو:یعنی اللہ سے ڈر کر احکام شریعت کی پابندی رکھنی چاہئیے جن میں سے ایک حکم یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق نہ دیجائے اور تین طلاقیں ایک دم نہ ڈالی جائیں اور مطلقہ عورت کو اس کے رہنے کے گھر سے نہ نکالاجائے۔ وغیرذٰلک۔
  • [4] عدّت کو نہ بھولو:یعنی مردو عورت دونوں کو چاہیئے کہ عدت کو یاد رکھیں۔ کہیں غفلت و سہو کی وجہ سے کوئی بے احتیاطی اور گڑ بڑ نہ ہوجائے۔ نیز طلاق ایسی طرح دیں کہ ایام عدت کی گنتی میں کمی بیشی لازم نہ آئے۔ جیسا کہ اوپر کے فائدہ میں بتلایا جا چکا ہے۔
  • [5] ان حدود سے تجاوز نہ کرو:یعنی گہنگار ہو کر اللہ کے ہاں سزا کا مستوجب ہوا۔
  • [6] یعنی لَاتَدْرِیْ کا ترجمہ "اس کو خبر نہیں" بصیغہ غائب کیا ہے۔ تامعلوم ہو جائے کہ خطاب اسی طلاق دینے والے کو ہے۔ نبی کریم ﷺ کو نہیں۔
  • [7] یعنی شاید پھر دونوں میں صلح ہو جائے اور طلاق پر ندامت ہو۔