Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Talaq — Ayah 6

65:6
أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ وَإِن كُنَّ أُوْلَٰتِ حَمۡلٖ فَأَنفِقُواْ عَلَيۡهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ فَإِنۡ أَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأۡتَمِرُواْ بَيۡنَكُم بِمَعۡرُوفٖۖ وَإِن تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَهُۥٓ أُخۡرَىٰ ٦
اُنکو گھر دو رہنے کے واسطے جہاں تم آپ رہو اپنے مقدور کے موافق1 اور ایذا دینا نہ چاہو اُنکو تاکہ تنگ پکڑو اُنکو2 اور اگر رکھتی ہوں پیٹ میں بچہ تو اُن پر خرچ کرو جب تک جنیں پیٹ کا بچہ3 پھر اگر وہ دودھ پلائیں تمہاری خاطر تو دو اُنکو اُن کا بدلا اور سکھاؤ آپس میں نیکی4 اور اگر ضد کرو آپس میں تو دودھ پلائے گی اُسکی خاطر اور کوئی عورت5
Footnotes
  • [1] مطلقہ کو رضاعت کی اجرت:یعنی وضع حمل کے بعد اگر عورت تمہاری خاطر بچہ کو دودھ پلائے تو جو اجرت کسی دوسری انّا کو دیتے وہ اس کو دیجائے۔ اور معقول طریقہ سے دستور کے موافق باہم مشورہ کر کے قرارداد کرلیں خواہ مخواہ ضد اور کجروی اختیار نہ کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کا برتاؤ رکھیں نہ عورت دودھ پلانے سے انکار کرے نہ مرد اس کو چھوڑ کر کسی دوسری عورت سے پلوائے۔
  • [2] حاملہ کا نفقہ:حمل کی مدت کبھی بہت طویل ہو جاتی ہے اس کو خصوصیت سے بتلا دیا کہ خواہ کتنی ہی طویل ہو وضع حمل تک اس کو نفقہ دینا ہوگا یہ نہیں کہ مثلًا تین مہینے نفقہ دے کر بند کر لو۔
  • [3] مرد کے ذمےّ سکنٰی و نفقہ:مرد کے ذمہ ضروری ہے کہ مطلقہ کو عدت تک رہنے کے لئے مکان دے (اس کو سکنیٰ کہتے ہیں) اور جب سکنیٰ واجب ہے تو نفقہ بھی اس کے ذمہ ہونا چاہیئے۔ کیونکہ عورت اتنے دنوں تک اسی کی وجہ سے مکان میں مقید و محبوس رہے گی۔ قرآن کریم کے الفاظ مِنۡ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجۡدِکُمۡ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ میں بھی اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے، کہ اس کو اپنے مقدور اور حیثیت کے موافق اپنے گھر میں رکھو۔ ظاہر ہے کہ مقدور کے موافق رکھنا اس کو بھی متضمن ہے کہ اس کے کھانے کپڑے کا مناسب بندوبست کرے۔ چنانچہ مصحف ابن مسعودؓ میں یہ آیت اس طرح تھی اَسْکِنُوْ ھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ وَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ مِنْ وَّجْدِکُمْ حنفیہ کے نزدیک یہ حکم سکنیٰ اور نفقہ کا ہر قسم کی مطلقہ کو عام ہے۔ رجعیہ کی قید نہیں کیونکہ پہلے سے جو بیان چلا آتا ہے مثلًا آئسہ۔صغیرہ اور حاملہ کی عدت کا مسئلہ اس میں کوئی تخصیص نہیں تھی۔ پھر اس میں بلا وجہ کیوں تخصیص کی جائے۔ رہی فاطمہ بنت قیس کی حدیث جس میں وہ کہتی ہیں کہ میرے زوج نے تین طلاقیں دے دی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکنیٰ اور نفقہ نہیں دلایا۔ اوّل تو اس حدیث میں فاروق اعظمؓ، عائشہ صدیقہؓ اور دوسرے صحابہؓ و تابعین نے انکار فرمایا۔ بلکہ فاروق اعظمؓ نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم ایک عورت کے کہنے سے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم کو معلوم نہیں کہ وہ عورت بھول گئ یا اس نے یاد رکھا، معلوم ہوا کہ فاروق اعظمؓ کتاب اللہ سے یہ ہی سمجھے ہوئے تھے کہ مطلقہ ثلاث کے لئے نفقہ وسکنٰی واجب ہے اور اس کی تائید میں رسول اللہ ﷺ کی کوئی سنت بھی ان کے پاس موجود تھی۔ چنانچہ طحاوی وغیرہ نے روایات نقل کی ہیں۔ جن میں حضرت عمرؓ نے تصریحًا بیان کیا ہے کہ یہ مسئلہ میں نے نبی کریم ﷺسے سنا۔ اور دارقطنی میں جابرؓ کی ایک حدیث بھی اس بارہ میں صریح ہے۔ گو اُس کے بعد بعض رواۃ میں اور رفع ووقف میں کلام کیا گیا ہے۔ فاطمہ بنتِ قیس کا واقعہ: دوسرے یہ بھی ممکن ہے کہ حضور ﷺ نے فاطمہ بنت قیس کے لئے سکنٰی اس لئے تجویز نہ کیا ہو کہ یہ اپنےسسرال والوں سے زبان درازی اور سخت کلامی کرتی تھی جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے حکم دیدیا کہ ان کے گھر سے چلی جائے۔ پھر جب سکنٰی نہ رہا تو نفقہ بھی ساقط ہوگیا۔ جیسے ناشزہ کا (جو شوہر کی نافرمانی کرکے گھر سے نکل جائے) نفقہ ساقط ہو جاتا ہے، تاوقتیکہ گھر واپس نہ آئے (نبّہ علیہ ابوبکر الرازیؒ فی احکام القرآن) نیز جامع ترمذی وغیرہ کی بعض روایات میں ہے کہ اس کو کھانے پینے کے لئے غلہ دیا گیا تھا اس نے اس مقدار سے زائد کا مطالبہ کیا جو منظور نہ ہوا۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ حضور ﷺ نے اس سے زائد نفقہ تجویز نہیں فرمایا جو مرد کی طرف سے دیا جا رہا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ہاں یہ یاد رہے کہ نسائی، طبرانی، اور مسند احمدؓ کی بعض روایات میں فاطمہ بنت قیس نے حضور ﷺ کا صریح ارشاد نقل کیا ہے کہ سکنٰی اور نفقہ صرف اس مطلقہ کے لئے ہے جس سے رجعت کا امکان ہو۔ ان روایات کی سندیں زیادہ قوی نہیں۔ زیلعی نے تخریج ہدایہ میں اس پر بحث کی ہے فلیراجع۔
  • [4] یعنی ستاؤ نہیں۔ کہ وہ تنگ آ کر نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔
  • [5] یعنی اگر آپس کی ضد اور تکرار سے عورت دودھ پلانے پر راضی نہ ہو تو کچھ اس پر موقوف نہیں کوئی دوسری عورت دودھ پلانیوالی مل جائیگی۔ اس کو اتنا گھمنڈ نہیں کرنا چاہیئے۔ اور اگر مرد خواہ مخواہ بچہ کو اس کی ماں سے دودھ پلوانا نہیں چاہتا تو بہرحال کوئی دوسری عورت دودھ پلانے کو آئے گی آخر اس کو بھی کچھ دینا پڑیگا۔ پھر وہ بچہ کی ماں ہی کو کیوں نہ دے۔