Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Tahrim — Ayah 3

66:3
وَإِذۡ أَسَرَّ ٱلنَّبِيُّ إِلَىٰ بَعۡضِ أَزۡوَٰجِهِۦ حَدِيثٗا فَلَمَّا نَبَّأَتۡ بِهِۦ وَأَظۡهَرَهُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهُۥ وَأَعۡرَضَ عَنۢ بَعۡضٖۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِۦ قَالَتۡ مَنۡ أَنۢبَأَكَ هَٰذَاۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡخَبِيرُ ٣
اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی کسی عورت سے ایک بات پھر جب اُس نے خبر کر دی اُسکی اور اللہ نے جتلا دی نبی کو وہ بات تو جتلائی نبی نے اُس میں سےکچھ اور ٹلا دی کچھ پھر جب وہ جتلائی عورت کو بولی تجھ کو کس نے بتلا دی یہ کہا مجھ کو بتایا اُس خبر والے واقف نے1
Footnotes
  • [1] حضرت حفصہؓ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کا افشاء:شروع سورت میں ہم شہد کا اور ماریہ قبطیہؓ کا قصہ لکھ چکے ہیں۔ اس آیت میں بتلا دیا کہ بندے ایک بات کو چھپانے کی کتنی ہی کوشش کریں، اللہ جب ظاہر کرنا چاہے تو ہر گز مخفی نہیں رہ سکتی۔ نیز نبی کریم ﷺ کے حسن معاشرت اور وسعت اخلاق کا اس سے ثبوت ملتا ہے کہ آپ خلاف طبع کارروائیوں پر کس قدر تساہل اور اغماض برتتے اور کس طرح ازراہ عفووکرم بعض باتوں کو ٹلاجاتے تھے۔ گویا شکایت کے موقع پر بھی پورا الزام نہ دیتے تھے۔ "موضح القرآن" میں ہے کہ بعض کہتے ہیں "اس حرم (ماریہ قبطیہؓ) کا موقوف کرنا آپ ﷺ نے حضرت حفصہؓ سے کہا اور کسی کو خبر کرنے سے منع کیا۔ اور اس کے ساتھ کچھ اور بات بھی کہی تھی انہوں نے حضرت عائشہؓ کو سب خبر کر دی۔ کیونکہ دونوں باتوں میں دونوں کا مطلب تھا۔ پھر وحی سے معلوم کرکے حضرت ﷺ نے بی بی حفصہؓ کو حرم کی بات کا الزام دیا اور دوسری بات ذکر میں نہ لائے۔ وہ دوسری بات کیا تھی؟ شاید یہ تھی کہ تیرا باپ عائشہؓ کے باپ کے بعد خلیفہ ہوگا۔ الغیب عنداللہ۔ جو بات اللہ اور رسول نے ٹلا دی ہم کیا جانیں۔ اسی واسطے ٹلادی کہ بے ضرورت چرچا نہ ہو۔ تا اور لوگ برا نہ مانیں"۔ یہ مضمون خلافت کا بعض ضعیف روایات میں آیا ہے جسے بعض علماء شیعہ نے بھی تسلیم کیا۔