Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Mulk — Ayah 3

67:3
ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗاۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٖۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورٖ ٣
جس نے بنائے سات آسمان تہہ پر تہہ1 کیا دیکھتا ہے تو رحمٰن کے بنانے میں کچھ فرق2 پھر دوبارہ نگاہ کر کہیں نظر آتی ہے تجھ کو دڑاڑ3
Footnotes
  • [1] اللہ کی تخلیق میں حکمت و بصیرت:یعنی قدرت نے اپنے انتظام اور کاریگری میں کہیں فرق نہیں کیا ہر چیز میں انسان سے لے کر حیوانات، نباتات، عناصر، اجرام علویّہ سبع سماوات اور نیّرات تک کیسی کاریگری دکھلائی ہے۔ یہ نہیں کہ بعض اشیاء کو حکمت و بصیرت سے اور بعض کو یونہی کیف مااتفق، بے تُکا یا بیکار وفضول بنا دیا ہو (العیاذ باللہ) اور جہاں کسی کو ایسا وہم گذرے سمجھو اس کی عقل و نظر کا قصور ہے۔
  • [2] نظام کائنات میں کوئی کمزوری نہیں:یعنی ساری کائنات نیچے سے اُوپر تک ایک قانون اور مضبوط نظام میں جکڑی ہوئی ہے اور کڑی سے کڑی ملی ہوئی ہے، کہیں درز یا دڑاڑ نہیں۔ نہ کسی صنعت میں کسی طرح کا اختلال پایا جاتا ہے۔ ہر چیز ویسی ہے جیسا اسے ہونا چاہئے۔ اور اگر یہ آیتیں صرف آسمان سے متعلق ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اے مخاطب ! اُوپر آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھ کہیں اونچ نیچ یا درز اور شگاف نہیں پائیگا۔ بلکہ ایک صاف ہموار، متصل، مربوط اور منتظم چیز نظر آئیگی جس میں باوجود مروردُہور اور تطاول از مان کے آج تک کوئی فرق اور تفاوت نہیں آیا۔
  • [3] اُوپر نیچے سات آسمان:حدیث میں آیا کہ ایک آسمان کے اوپر دوسرا آسمان، دوسرے پر تیسرا اسی طرح سات آسمان اوپر نیچے ہیں۔ اور ہر ایک آسمان سے دوسرے تک پانسو برس کی مسافت ہے۔ نصوص میں یہ تصریح نہیں کی گئ کہ اوپر جو نیلگونی چیز ہم کو نظر آتی ہے وہی آسمان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے اوپر ہوں اور یہ نیلگونی چیز آسمان کی چھت گیری کا کام دیتی ہو۔