Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Qalam — Ayah 4

68:4
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ ٤
اور تو پیدا ہوا ہے بڑے خلق پر1
Footnotes
  • [1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ:یعنی اللہ تعالٰی نے جن اعلٰیٰ اخلاق و ملکات پر آپ کو پیدا فرمایا، کیا دیوانوں میں ان اخلاق و ملکات کا تصوّرکیاجا سکتا ہے۔ ایک دیوانے کے اقوال و افعال میں قطعًا نظم و ترتیب نہیں ہوتی، نہ اس کا کلام اسکے کاموں پر منطبق ہوتا ہے، برخلاف اس کے آپ کی زبان قرآن ہے اور آپ کے اعمال و اخلاق قرآن کی خاموش تفسیر۔ قرآن جس نیکی، جس خوبی، اور بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے وہ آپ میں فطرۃً موجود، اور جس بدی و زشتی سے روکتا ہے آپ طبعًا اس سے نفور وبیزار ہیں۔ پیدائشی طورپر آپکی ساخت اور تربیت ایسی واقع ہوئی ہے کہ آپ کی کوئی حرکت اور کوئی چیز حد تناسب و اعتدال سے ایک انچ ادھر اُدھر ہٹنے نہیں پائی۔ آپ کا حسن اخلاق اجازت نہ دیتا تھا کہ جاہلوں اور کمینوں کے طعن و تشنیع پر کان دھریں جس شخص کا خلق اس قدر عظیم اور مطمح نظر اتنا بلند ہو، بھلا وہ کسی مجنون کے مجنون کہہ دینے پر کیا التفات کریگا۔ آپ تو اپنے دیوانہ کہنے والوں کی نیک خواہی اور دردمندی میں اپنے کو گھلائے ڈالتے تھے جس کی بدولت فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ (الکہف۔۶) کا خطاب سننے کی نوبت آتی تھی۔ فی الحقیقت اخلاق کی عظمت کا سب سے زیادہ عمیق پہلو یہ ہے کہ آدمی دنیا کی ان حقیر ہستیوں سے معاملہ کرتے وقت خداوند قدوس کی عظیم ہستی سے غافل و ذاہل نہ ہو۔ جب تک یہ چیز قلب میں موجود رہیگی تمام معاملات عدل واخلاق کی میزان میں پورے اُترینگے۔کیا خوب فرمایاشیخ جنید بغدادیؒ نے سمی خلقہ عظیما اذلم تکن لہ ھمۃ سوی اللّٰہ تعالیٰ عاشرالخلق بخلقہ وذاھلھم بقلبہ فکان ظاھرہ مع الخلق وباطنہ مع الحق وفی وصیۃ بعض الحکما علیک بالخلق مع الخلق و بالصدق مع الحق۔