Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Qalam — Ayah 42

68:42
يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَن سَاقٖ وَيُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ ٤٢
جس دن کہ کھولی جائے پنڈلی اور وہ بلائے جائیں سجدہ کرنےکو پھر نہ کر سکیں1
Footnotes
  • [1] کشف ساق:اس کا قصّہ حدیث شیخین میں مرفوعًا اس طرح آیا ہے کہ حق تعالیٰ میدان قیامت میں اپنے ساق ظاہر فرمائے گا "ساق" (پنڈلی) کو کہتے ہیں اور یہ کوئی خاص صفت یاحقیقت ہے صفات و حقائق الہٰیہ میں سے جس کو کسی خاص مناسبت سے "ساق" فرمایا۔ جیسے قرآن میں "ید" (ہاتھ) "وجہ" (چہرہ) کا لفظ آیا ہے۔ یہ مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں۔ ان پر اسی طرح بلاکیف ایمان رکھناچاہئے جیسے اللہ کی ذات، وجود، حیات اور سمع و بصر وغیرہ صفات پر ایمان رکھتے ہیں۔ اہل ریا و نفاق سجدہ نہیں کرسکیں گے: اسی حدیث میں ہے کہ اس تجلی کودیکھ کر تمام مؤمنین ومؤمنات سجدہ میں گر پڑینگے۔ مگر جو شخص ریاء سے سجدہ کرتا تھا، اسکی کمر نہیں مڑ یگی۔ تختہ سی ہو کر رہ جائیگی، اور جب اہل ریاء ونفاق سجدہ پر قادرنہ ہونگے تو کفار کا اُس پر قادر نہ ہونا بطریق اولیٰ معلوم ہوگیا۔ یہ سب کچھ محشرمیں اس لئے کیاجائے گا کہ مومن و کافر اور مخلص ومنافق صاف طور پر کھل جائیں اور ہر ایک کی اندرونی حالت حسّی طور پر مشاہد ہوجائے (تنبیہ) "متشابہات" پر پہلے کلام کیا جاچکا ہے اور حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے اس آیت "کشف ساق" کی تفسیر میں نہایت عالی اور عجیب تبصرہ متشابہات پرکیا ہے۔ فلیراجع۔