Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Haqqah — Ayah 47

69:47
فَمَا مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ عَنۡهُ حَٰجِزِينَ ٤٧
پھر تم میں کوئی ایسا نہیں جو اُس سے بچا لے1
Footnotes
  • [1] نبی اللہ کے کلام میں خیانت نہیں کرسکتا:حضرت شاہ عبدالقادرؒ لکھتے ہیں " یعنی اگر جھوٹ بناتا اللہ پرتو اوّل اس کا دشمن اللہ ہوتا اور ہاتھ پکڑتا یہ دستور ہے گردن مارنے کا کہ جلاد اس کا داہنا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ رکھتا ہے تا سرک نہ جائے۔ حضرت شاہ عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں کہ تَقَوَّلَ کی ضمیر رسول کی طرف لوٹتی ہے یعنی اگر رسول بالفرض کوئی حرف اللہ کی طرف منسوب کر دے یا اس کے کلام میں اپنی طرف سے ملا دے جو اللہ نے نہ کہا ہو تو اسی وقت اس پر عذاب کیا جائے (العیاذ باللہ) کیونکہ اس کی تصدیق اور سچائی آیات بیّنات اور دلائل و براہین کے ذریعہ سے ظاہر کی جاچکی ہے۔ اب اگر اس قسم کی بات پر فورًا عذاب اور سزا نہ کی جائے تو وحی الہٰی سے امن اُٹھ جائیگا اور ایسا التباس و اشتباہ پڑ جائے گا جس کی اصلاح ناممکن ہو جائیگی۔ جو حکمت تشریع کے منافی ہے۔ نبوّت کے جھوٹے دعوے کو اللہ چلنے نہیں دیتا: بخلاف اس شخص کے جس کا رسول ہونا آیات و براہین سے ثابت نہیں ہوا، بلکہ کھلے ہوئے قرائن و دلائل علانیہ اس کی رسالت کی نفی کر چکے ہیں تو اس کی بات بھی بیہودہ اور خرافات ہے کوئی عاقل اس کو درخور اعتناء نہ سمجھے گا اور نہ بحمداللہ دین الہٰی میں کوئی التباس و اشتباہ واقع ہوگا۔ ہاں ایسے شخص کی معجزات وغیرہ سے تصدیق ہونا محال ہے۔ ضرور ہے کہ اللہ تعالٰی اس کو جھوٹا ثابت کرنے اور رسوا کرنے کے لئے ایسے امور برروئے کار لائے جو اس کے دعوئے رسالت کے مخالف ہوں ۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ جس طرح بادشاہ ایک شخص کو کسی منصب پر مامور کر کے اور سندو فرمان وغیرہ دے کر کسی طرف روانہ کرتے ہیں۔ اب اگر اس شخص سے اس خدمت میں کچھ خیانت ہوئی یا بادشاہ پر کچھ جھوٹ باندھنا اس سے ثابت ہوا تو اسی وقت بلا توقف اس کا تدارک کرتے ہیں۔ لیکن اگر سڑک کوٹنے والا مزدور یا جھاڑو دینے والا بھنگی بکتا پھرے کہ گورنمنٹ کامیرے لئے یہ فرمان ہے یا میرے ذریعہ سے یہ احکام دیئے گئے ہیں توکون اس کی بات پرکان دھرتا ہے اور کون اس کے دعووں سے تعرض کرتا ہے۔ بہرحال آیت ھٰذا میں حضور ﷺ کی نبوّت پر استدلال نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہ بتلایا گیا ہے کہ قرآن کریم خالص اللہ کا کلام ہے جس میں ایک حرف یا ایک شوشہ نبی کریم ﷺ بھی اپنی طرف سے شامل نہیں کرسکتے۔ اور نہ باوجود پیغمبر ہونے کے آپ کی یہ شان ہے کہ کوئی بات اللہ کی طرف منسوب کر دیں جو اس نے نہ کہی ہو۔ تو رات سفر استثناء کے اٹھارویں باب میں بیسواں فقرہ یہ ہے "لیکن وہ نبی ایسی گستاخی کرےکہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے"۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو نبی ہوگا اس سے ایسا ممکن نہیں فنظیر ہذہ الآیہ قولہ تعالٰی فی البقرۃ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ (البقرۃ۔۱۲۰)۔