Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Ma'arij — Ayah 39

70:39
كـَلَّآۖ إِنَّا خَلَقۡنَٰهُم مِّمَّا يَعۡلَمُونَ ٣٩
ہرگز نہیں1 ہم نے اُنکو بنایا ہے جس سے وہ بھی جانتے ہیں2
Footnotes
  • [1] انسان کی حقیقت:یعنی مٹی جیسی حقیر یا منی جیسی گھناؤنی چیز سے پیدا ہوا وہ کہاں لائق ہے بہشت کے۔ مگر ہاں جب ایمان کی بدولت پاک وصاف اور معظم و مکرم ہو۔ اورممکن ہے اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّمَّا یَعۡلَمُوۡنَ ۔ سے اشارہ ہو اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا کی طرف جو چند آیات پہلےاسی سورت میں آچکا ہے یعنی وہ پیدا تو ہوا ہے ان صفات پر اور اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ ۔ الَّذِیۡنَ ہُمۡ الخ کے استثناء میں اپنے کو شامل نہ کیا۔ پھر بہشت کا مستحق کیسے ہو۔ اس تقریر پر مِمَّا یَعْلَمُوْنَ کی ترکیب خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ (انبیاء۔۳۷) کے قبیل سے ہوگی۔
  • [2] کفّار کا استہزاء اور جنت سے محرومی:یعنی قرآن کی تلاوت اور جنت کا ذکر سن کر کفار ہر طرف سے ٹولیاں بنا کر تیری طرف امڈے چلے آتے ہیں۔ پھر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں،کیا اس کے باوجود یہ بھی طمع رکھتے ہیں کہ وہ سب جنت کے باغوں میں داخل کئے جائینگے؟ جیسا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم کو لوٹ کر خدا کی طرف جانا ہوا تو وہاں بھی ہمارے لئے بہتری ہی بہتری ہے۔ ہر گز نہیں۔ اس خداوند عادل و حکیم کے ہاں! ایسا اندھیر نہیں ہوسکتا۔(تنبیہ) ابن کثیر نے ان آیات کا مطلب یہ لیا ہے کہ تیری طرف کے ان منکروں کو کیاہوا کہ تیزی کے ساتھ دوڑے چلے جاتے ہیں داہنےاور بائیں،غول کے غول ،یعنی قرآن سن کر ایسے کیوں بدکتے اور بھاگتے ہیں۔ پھر کیااس وحشت و نفرت کے باوجود یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ ان میں ہر شخص بے کھٹکے جنت میں جا گھسے گا؟ ہر گز نہیں۔وھذا کما قال تعالیٰ فَمَا لَہُمۡ عَنِ التَّذۡکِرَۃِ مُعۡرِضِیۡنَ۔ کَاَنَّہُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَۃٌ۔ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَۃٍ (مدثر۔۴۹،۵۰،۵۱)۔