Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Muzzammil — Ayah 20

73:20
۞ إِنَّ رَبَّكَ يَعۡلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدۡنَىٰ مِن ثُلُثَيِ ٱلَّيۡلِ وَنِصۡفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَآئِفَةٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ مَعَكَۚ وَٱللَّهُ يُقَدِّرُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحۡصُوهُ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡۖ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرۡضَىٰ وَءَاخَرُونَ يَضۡرِبُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَبۡتَغُونَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَءَاخَرُونَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنۡهُۚ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗاۚ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَيۡرٖ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيۡرٗا وَأَعۡظَمَ أَجۡرٗاۚ وَٱسۡتَغۡفِرُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمُۢ ٢٠
بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ تو اٹھتا ہے نزدیک دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور تہائی رات کے اور کتنے لوگ تیرے ساتھ کے1 اور اللہ ماپتا ہے رات کو اور دن کو اُس نے جانا کہ تم اُس کو پورا نہ کر سکو گے سو تم پرمعافی بھیجدی اب پڑھو جتنا تم کو آسان ہو قرآن سے2 جانا کہ کتنے ہوں گے تم میں بیمار اور کتنے اور لوگ پھریں گے ملک میں ڈھونڈھتے اللہ کے فضل کو اور کتنے لوگ لڑتے ہوں گے اللہ کی راہ میں سو پڑھ لیا کرو جتنا آسان ہو اُس میں سے اورقائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ3 اور قرض دو اللہ کو اچھی طرح پر قرض دینا4 اور جو کچھ آگے بھیجو گے اپنے واسطے کوئی نیکی اُسکو پاؤ گے اللہ کے پاس بہتر اور ثواب میں زیادہ5 اور معافی مانگو اللہ سے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے6
Footnotes
  • [1] قیامِ لیل کے حکم میں تخفیف:یعنی رات اور دن کی پوری پیمائش تو اللہ کو معلوم ہے وہی ایک خاص اندازہ سے کبھی رات کو دن سے گھٹاتا کبھی بڑھاتا اور کبھی دونوں کو برابر کر دیتا ہے۔ بندوں کو اس نیند اور غفلت کے وقت روزانہ آدھی،تہائی، اور تہائی رات کی پوری حفاظت کرنا خصوصًا جبکہ گھڑی گھنٹوں کا سامان نہ ہو، سہل کام نہیں تھا اسی لئے بعض صحابہؓ رات بھر نہ سوتے تھے کہ کہیں نیند میں ایک تہائی رات بھی جاگنا نصیب نہ ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے معافی بھیجدی اور فرما دیا کہ تم اس کو ہیمیشہ پوری طرح نباہ نہ سکو گے۔ اس لئے اب جس کو اٹھنے کو توفیق ہو، وہ جتنی نماز، اور اس میں جتنا قرآن چاہے پڑھ لے۔ اب امّت کے حق میں نہ نماز تہجد فرض ہے نہ وقت کی یا مقدار تلاوت کی کوئی قید ہے۔
  • [2] قیامِ لیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کی محنت:یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے اس کے حکم کی پوری تعمیل کی۔کبھی آدھی کبھی تہائی اور کبھی دو تہائی رات کے قریب اللہ کی عبادت میں گذاری۔ چنانچہ روایات میں ہے کہ صحابہؓ کے پاؤں راتوں کو کھڑے کھڑے سوج جاتے اور پھٹنے لگتے تھے۔ بلکہ بعض تو اپنے بال رسی سے باندھ لیتے تھے کہ نیند آئے تو جھٹکا لگ کر تکلیف سے آنکھ کھل جائے۔
  • [3] اللہ کو قرض دینا:یعنی پورے اخلاص سے اللہ کی راہ میں اس کے احکام کے موافق خرچ کرنا یہی اس کو اچھی طرح قرض دینا ہے۔ بندوں کو اگر قرض حسن دیا جائے وہ بھی اس کے عموم میں داخل سمجھو۔ کماثبت فضلہ فی الحدیث۔
  • [4] ہر نیکی اللہ کے پاس بہتر صورت میں موجودہوگی:یعنی جو نیکی یہاں کرو گے۔ اللہ کے ہاں اس کو نہایت بہتر صورت میں پاؤ گے اور بہت بڑا اجر اس پر ملے گا تو یہ مت سمجھو کہ جو نیکی ہم کرتے ہیں یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ نہیں، وہ سب سامان تم سے آگے اللہ کے ہاں پہنچ رہا ہے جو عین حاجت کے وقت تمہارے کام آئے گا۔
  • [5] یعنی تمام احکام بجا لا کر پھر اللہ سے معافی مانگو۔ کیونکہ کتنا ہی محتاط شخص ہو اس سے بھی کچھ نہ کچھ تقصیر ہو جاتی ہے۔ کون ہے جو دعویٰ کرسکے کہ میں نے اللہ کی بندگی کا حق پوری طرح ادا کردیا بلکہ جتنا بڑا بندہ ہو اسی قدر اپنے کو تقصیر وار سمجھتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کی معافی چاہتا ہے۔ اے غفور ورحیم تو اپنے فضل سے میری خطاؤں اور کوتاہیوں کو بھی معاف فرما۔ تم سورۃ المزمل وللہ الحمد والمنہ۔
  • [6] حکم میں تخفیف کی حکمت و مصلحت:یعنی اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ تم میں بیمار بھی ہونگے اور مسافر بھی جو ملک میں روزی یا علم وغیرہ کی تلاش کرتے پھرینگے اور وہ مرد مجاہد بھی ہونگے۔ جو اللہ کی راہ میں جنگ کرینگے ان حالات میں شب بیداری کے احکام پر عمل کرنا سخت دشوار ہوگا۔ اس لئے تم پر تخفیف کر دی کہ نماز میں جس قدر قرآن پڑھنا آسان ہو پڑھ لیا کرو۔ اپنی جان کو زیادہ تکلیف میں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں فرض نمازیں نہایت اہتمام سے باقاعدہ پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو، اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے رہو۔ کہ ان ہی باتوں کی پابندی سے بہت کچھ روحانی فوائد اور ترقیات حاصل ہوسکتی ہیں۔ (تنبیہ) قیامِ لیل کے حکم کی مصلحت: اوّلین صحابہؓ سے ایک سال تک بہت تاکید و تحتم کے ساتھ یہ ریاضت شاقہ شاید اس لئے کرائی کہ وہ لوگ آئندہ تمام امت کے ہادی و معلم بننے والے تھے۔ ضرورت تھی کہ وہ اس قدر منجھ جائیں اور روحانیت کے رنگ میں ایسے رنگے جائیں کہ تمام دنیا ان کے آئینہ میں کمالات محمدی (ﷺ) کا نظارہ کرسکے اور یہ نفوس قدسیہ ساری امت کی اصلاح کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔