Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Muzzammil — Ayah 5

73:5
إِنَّا سَنُلۡقِي عَلَيۡكَ قَوۡلٗا ثَقِيلًا ٥
ہم ڈالنے والے ہیں تجھ پر ایک بات وزن دار1
Footnotes
  • [1] قولِ ثقیل:حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی ریاضت کر تو بھاری بوجھ آسان ہو"۔ اور وہ بوجھ ایسا ہے کہ جس کے سامنے شب بیداری کو سہل سمجھنا چاہیئے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد پے بہ پے قرآن تم پر نازل کرینگے جو اپنی قدرومنزلت کے اعتبار سے بہت قیمتی اور وزن دار اور اپنی کیفیات و لوازم کے اعتبار سے بہت بھاری اور گراں بار ہے۔ نزول قرآن کے وقت آنحضرتﷺ کی کیفیت: احادیث میں ہے کہ نزول قرآن کے وقت آپ ﷺ پر بہت گرانی اور سختی گزرتی تھی۔ جاڑے کے موسم میں آپ ﷺ پسینہ پسینہ ہو جاتے تھے۔ اگر اس وقت کسی سواری پر سوار ہوتے تو سواری تحمل نہیں کرسکتی تھی۔ ایک مرتبہ آپﷺ کی فخذ مبارک زید بن ثابتؓ کی ران پر تھی۔ اس وقت وحی نازل ہوئی۔ زید بن ثابتؓ کو ایسا محسوس ہوا کہ ان کی ران بوجھ سے پھٹ جائیگی۔ اس کے علاوہ اس ماحول میں قرآن کی دعوت و تبلیغ اور اس کے حقوق کا پوری طرح ادا کرنا اور اس راہ میں تمام سختیوں کو کشادہ دلی سے برداشت کرنا بھی سخت مشکل اور بھاری کام تھا۔ اور جس طرح ایک حیثیت سے یہ کلام آپ ﷺ پر بھاری تھا دوسری حیثیت سے کافروں اور منکروں پر شاق تھا۔ غرض ان تمام وجوہ کا لحاظ کرتے ہوئے آنحضرتﷺ کو حکم ہوا کہ جس قدر قرآن اتر چکا ہے۔ اس کی تلاوت میں رات کو مشغول رہا کریں اور اس عبادت خاص کے انوار سے اپنے تئیں مشرف کر کے اس فیض اعظم کی قبولیت کی استعداد اپنے اندر مستحکم فرمائیں۔