Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Muddaththir — Ayah 30

74:30
عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ ٣٠
اُس پر مقرر ہیں انیس فرشتے1
Footnotes
  • [1] دوزخ کے انیس (۱۹) داروغہ:یعنی دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہو گا اس کے افسر انیس فرشتے ہونگے۔ جن میں سب سے بڑے ذمہ دار کا نام "مالک" ہے (تنبیہ) حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے نہایت تفصیل سے انیس کے عدد کی حکمیتں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لئے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سرکردگی میں ہوگی۔ کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کر نہیں کرسکتے۔ لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ قوت اسی دائرہ میں محدود ہے جس میں کام کرنے کے لئے وہ مامور ہوا ہے۔ مثلًا ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے۔ مگر عورت کے پیٹ میں بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ حضرت جبریلؑ چشم زدن میں وحی لاسکتے ہیں لیکن پانی برسانا ان کا کام نہیں۔ جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا آنکھ سن نہیں سکتی۔ اگر چہ اپنی قسم کے کام کتنے ہی سخت ہوں کرسکتے ہیں۔ مثلًا کان ہو سکتا ہے کہ ہزاروں آوازیں سن لے اور نہ تھکے، آنکھ ہزاروں رنگ دیکھ لے اور عاجز نہ ہو۔ اسی طرح اگر ایک فرشتہ عذاب کے واسطے دوزخیوں پر مقرر ہوتا اس سے ایک ہی قسم کا عذاب دوزخیوں پر ہو سکتا تھا۔ دوسری قسم کا عذاب جو اس کے دائرہ استعداد سے باہر ہے ممکن نہ تھا اس لئے انیس قسم کے عذابوں کے لئے (جن کی تفصیل تفسیر عزیزی میں ہے) انیس ذمہ دار فرشتے مقرر ہوئے ہیں۔ علماء نے اس عدد کے حکمتوں پر بہت کچھ کلام کیا ہے مگر احقر کے نزدیک حضرت شاہ صاحبؒ کا کلام بہت عمیق و لطیف ہے۔ واللہ اعلم۔