Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Qiyamah — Ayah 2

75:2
وَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلنَّفۡسِ ٱللَّوَّامَةِ ٢
اور قسم کھاتا ہوں جی کی کہ جو ملامت کرے برائی پر1
Footnotes
  • [1] نفسِ لوّامہ اور نفس کی دوسری اقسام:محققین نے لکھا ہے کہ آدمی کا نفس ایک چیز ہے لیکن اس کی تین حالتوں کے اعتبار سے تین نام ہوگئے ہیں۔ اگر نفس عالم علوی کی طرف مائل ہو اور اللہ کی عبادت و فرمانبرداری میں اس کو خوشی حاصل ہوئی اور شریعت کی پیروی میں سکون اور چین محسوس کیا اس نفس کو "مطمئنہ" کہتے ہیں۔ یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ۔ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً (الفجر۔۲۷،۲۸) اور اگر عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذات و خواہشات میں پھنس کر بدی کی طرف رغبت کی اور شریعت کی پیروی سے بھاگا اس کو "نفس امّارہ" کہتے ہیں کیونکہ وہ آدمی کو برائی کا حکم کرتا ہے وَ مَاۤ اُبَرِّیُٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ (یوسف۔۵۳) اور اگر کبھی عالم سفلی کی طرف جھکتا اور شہوت و غضب میں مبتلا ہوتا ہے اور کبھی عالم علوی کی طرف مائل ہو کر ان چیزوں کو برا جانتا ہے اور ان سے دور بھاگتا ہے اور کوئی برائی یا کوتاہی ہو جانے پر شرمندہ ہو کر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے اس کو "نفس لوّامہ" کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "آدمی کا جی اوّل کھیل میں اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ ایسے جی کو "امّارہ بالسّوء" کہتے ہیں۔ پھر ہوش پکڑا نیک و بد سمجھا تو باز آیا کبھی (غفلت ہوئی تو) اپنی خو پر دوڑ پڑا پیچھے کچھ سمجھ آئی تو اپنے کئے پر پچھتانے اور ملامت کرنے لگا۔ ایسا نفس (جی) "لوّامہ" کہلاتا ہے۔ پھر جب پورا سنور گیا، دل سے رغبت نیکی ہی پر ہو گئ بیہودہ کام سے خود بخود بھاگنے لگا اور بدی کے ارتکا ب بلکہ تصوّر سے تکلیف پہنچنے لگی وہ نفس "مطمئنہ" ہو گیا"۔ ا ھ بتغییر یسیر۔ یہاں نفس لوّامہ کی قسم کھا کر اشارہ فرمادیا کہ اگر فطرت صحیح ہو تو خود انسان کا نفس دنیا ہی میں برائی اور تقصیر پر ملامت کرتا ہے یہی چیز ہے جو اپنی اعلٰی واکمل ترین صورت میں قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔