Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Insan — Ayah 2

76:2
إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ أَمۡشَاجٖ نَّبۡتَلِيهِ فَجَعَلۡنَٰهُ سَمِيعَۢا بَصِيرًا ٢
ہم نے بنایا آدمی کو ایک دو رنگی بوند سے1 ہم پلٹتے رہے اُسکو پھر کر دیا اُسکو ہم نے سننے والا دیکھنے والا2
Footnotes
  • [1] مخلوط پانی سے انسان کی تخلیق:یعنی مرد اور عورت کے دو رنگے پانی سے پیدا کیا۔ (تنبیہ) اَمْشَاجٍ کے معنی مخلوط کے ہیں۔ نطفہ جن عذاؤں کا خلاصہ ہے وہ مختلف چیزوں سے مرکب ہوتی ہیں اس لئے عورت کے پانی سے قطع نظر کرکے بھی اُس کا اَمْشَاجٍ کہہ سکتے ہیں۔
  • [2] الٹ پھیر کے بعد دیکھنے سننے والا بنا دیا:یعنی نطفہ سے جما ہوا خون ، پھر اس سے گوشت کا لوتھڑا بنایا۔ اسی طرح کئ طرح کے الٹ پھیر کرنے کے بعد اس درجہ میں پہنچا دیا کہ اب وہ کانوں سےسنتا اور آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ان قوتوں سے وہ کام لیتا ہے جو کوئی دوسرا حیوان نہیں لے سکتا۔ گویا اور سب اس کے سامنے بہرے اور اندھے ہیں (تنبیہ) نَّبْتَلِیْہِ کے معنی اکثر مفسرین نے امتحان و آزمائش کے لئے ہیں۔ یعنی آدمی کا بنانا اس غرض سے تھا کہ اس کو احکام کا مکلف اور امرونہی کا مخاطب بنا کر امتحان لیا جائے اور دیکھا جائے کہ کہاں تک مالک کے احکام کی تعمیل میں وفاداری دکھلاتا ہے۔ اسی لئے اس کو سننے، دیکھنے، اور سمجھنے کی وہ قوتیں دی گئیں جن پر تکلیف شرعی کامدار ہے۔