Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Takwir — Ayah 18

81:18
وَٱلصُّبۡحِ إِذَا تَنَفَّسَ ١٨
اور صبح کی جب دم بھرے1
Footnotes
  • [1] صبح کے وقت سانس لینے کی قسم:حضرت شاہ عبدالعزیزؒ لکھتے ہیں گویا آفتاب کو دریا میں تیرنے والی مچھلی سے تشبیہ دی اور طلوع سے پہلے اس کے نور کے منتشر ہونے کو دم ماہی سے نسبت کی جیسے مچھلی دریا میں آنکھوں سے پوشیدہ گزرتی ہے اور اُس کے سانس لینے سے پانی اڑتا اور منتشر ہوتا ہے۔ اسی طرح آفتاب کی حالت قبل طلوع اور قبل روشنی پھیلنے کے ہے۔ اور بعضوں نے کہا کہ دم صبح کہنا یہ ہے نسیم سے جو طلوع صبح کے قریب موسم بہار میں چلتی ہے۔(تنبیہ) ان قسموں کی مناسبت: ان قسموں کی مناسبت آئندہ مضمون سے یہ ہے کہ ان ستاروں کا چلنا، ٹھہرنا، لوٹنا اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے اگلے انبیاء پر باربار وحی آنے اور ایک مدت دراز تک اسکے نشان باقی رہنے پھر منقطع ہو کر چھپ جانے اور غائب ہو جانے کا اور رات کا آنا نمونہ ہے اس تاریک دور کا جو خاتم المرسلین ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے دنیا پر گزرا کہ کسی شخص کو حق و باطل کی تمیز نہ رہی تھی۔ اور وحی کے آثار بالکل مٹ چکے تھے۔ اس کے بعد صبح صادق کا دم بھرنا حضور ﷺ کا اس جہان میں تشریف لانا اور قرآن کا اُترنا ہے کہ ہر چیز کو ہدایت کے نور سے دن کی مانند روشن کر دیا۔ گویا اگلے انبیاء کا نور ستاروں کی طرح تھا اور اس نور اعظم کو آفتاب درخشاں کہنا چاہئے۔ ولنعم ماقیل: فانہ شمسُ فضلٍ ھم کواکبھا یظھرن انوارھاللناس فی الظلم حتّٰی اذاطلعت فی الکون عمّ ھداھا للعالمین واحییت سائر الامم اور بعض علماء نے فرمایا کہ ستاروں کا سیدھا چلنا اور لوٹنا اور چھپ جانا فرشتے کے آنے اور واپس جانے اور عالم ملکوت میں جاچھپنے کے مشابہ ہے اور رات کا گزرنا اور صبح کا آنا، قرآن کے سبب ظلمت کفر دور ہو جانے اور نور ہدایت کے پوری طرح ظاہر ہو جانے کے مشابہ ہے۔ اس تقریر کے موافق مقسم بہ کی مناسبت مقسم علیہ سے زیادہ واضح ہے۔ واللہ اعلم۔