Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Buruj — Ayah 5

85:5
ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلۡوَقُودِ ٥
آگ ہے بہت ایندھن والی1
Footnotes
  • [1] اصحاب الاخدود کون ہیں ایک عجیب واقعہ:یعنی ملعون و مغضوب ہوئے وہ لوگ جنہوں نے بڑی بڑی خندقیں کھود کر آگ سے بھریں اور بہت سا ایندھن ڈال کر ان کو دھونکایا۔ ان " اصحاب الاخدود" سے کون مُراد ہیں؟ مفسرین نے کئ واقعات نقل کیے ہیں لیکن صحیح مسلم، جامع ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں جو قصہ مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں کوئی کافر بادشاہ تھا۔ اس کے ہاں ایک ساحر (جادوگر) رہتا تھا۔ جب ساحر کی موت کا وقت قریب ہوا۔ اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ایک ہشیار اور ہونہار لڑکا مجھے دیا جائے تو میں اس کو اپنا علم سکھا دوں۔ تا میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چنانچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ ساحر کے پاس جاکر اس کا علم سیکھتا تھا۔ راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا۔ جو اس وقت کے اعتبار سے دین حق پر تھا۔ لڑکا اس کے پاس بھی آنے جانے لگا اور خفیہ طور سے راہب کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا، اور اس کے فیض صحبت سے ولایت و کرامت کے درجہ کو پہنچا۔ ایک روز لڑکے نے دیکھا کہ کسی بڑے جانور (شیر وغیرہ) نے راستہ روک رکھا ہے جس کی وجہ سے مخلوق پریشان ہے۔ اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر دعا کی کہ اے اللہ! اگر راہب کا دین سچّا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے۔ یہ کہہ کر پتھر پھینکا جس سے اس جانور کا کام تمام ہوگیا۔ لوگوں میں شور ہوا کہ اس لڑکے کو عجیب علم آتا ہے کسی اندھے نے سُن کر درخواست کی کہ میری آنکھیں اچھی کر دو۔ لڑکےنے کہا کہ اچھی کرنے والا میں نہیں۔ وہ اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ ہے۔ اگر تو اس پر ایمان لائے تو میں دعا کروں۔ اُمید ہے وہ تجھ کو بینا کر دیگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا شدہ شدہ یہ خبریں بادشاہ کو پہنچیں۔ اس نے برہم ہو کر لڑکے کو مع راہب اور اندھے کے طلب کر لیا اور کچھ بحث و گفتگو کے بعد راہب اور اندھے کو قتل کر دیا اور لڑکے کی نسبت حکم دیا کہ اونچے پہاڑ پر سے گرا دیا جائے۔ مگر خدا کی قدرت جو لوگ اس کو لے گئے تھے، سب پہاڑ سے گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا صحیح و سالم چلا آیا۔ پھر بادشاہ نے دریا میں غرق کرنے کا حکم دیا۔ وہاں بھی یہ ہی صورت پیش آئی کہ لڑکا صاف بچ کر نکل آیا اور جو لے گئے تھے وہ سب دریا میں ڈوب گئے۔ آخر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ میں خود اپنے مرنے کی ترکیب بتلاتا ہوں۔ آپ سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کریں۔ ان کے سامنے مجھ کو سولی پر لٹکائیں اور یہ لفظ کہہ کر میرے تیر ماریں "بسم اللہ رب الغلام" (اس اللہ کے نام پر جو رب ہے اس لڑکے کا) چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ اور لڑکا اپنے رب کے نام پر قربان ہوگیا۔ یہ عجیب واقعہ دیکھ کر یکلخت لوگوں کی زبان سے ایک نعرہ بلند ہوا کہ "آمنا برب الغلام" (ہم سب لڑکے کے رب پر ایمان لائے) لوگوں نے بادشاہ سے کہا کہ لیجیے جس چیز کی روک تھام کر رہے تھے وہ ہی پیش آئی۔ پہلے تو کوئی اکّا دُکّا مسلمان ہوتا تھا اب خلو کثیر نے اسلام قبول کر لیا۔ بادشاہ نے غصہ میں آکر بڑی بڑی خندقیں کھدوائیں اور ان کو خوب آگ سے بھرواکر اعلان کیا کہ جو شخص اسلام سے نہ پھرے گا اس کو ان خندقوں میں جھونک دیا جائیگا۔ آخر لوگ آگ میں ڈالے جا رہے تھے لیکن اسلام سے نہیں ہٹتے تھے۔ ایک مسلمان عورت لائی گئ جس کے پاس دودھ پیتا بچہ تھا۔ شاید بچہ کی وجہ سے آگ میں گرنے سے گھبرائی۔ مگر بچہ نے خدا کے حکم سے آواز دی "اُمّاہ اصبری فاِنکِ علی الحق" (اماں جان ! صبر کر)کہ تو حق پر ہے۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]