دوسرے اس بات کی تردید کے لئے جو کفار الزام لگاتے تھے کہ حضور اکرم مجنون ہیں تو اللہ تعالیٰ یہاں تردید کرتا ہے کہ رب کے فضل وکرم سے آپ مجنون نہیں ہیں۔
ماانت ............ بمجنون (86 : 2) ” تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو “۔ ایک مختصر سی آیت میں ایک بات کو ثابت کیا جاتا ہے اور ایک کی نفی کردی جاتی ہے۔ ثابت یہ کیا جاتا ہے کہ آپ پر اللہ کا فضل وکرم ہے۔ اور نفی اس بات کی جاتی ہے کہ آپ مجنون نہیں ہیں۔ اور اثبات رحمت نہایت ہی اپنائیت کے ساتھ ہے۔
ربک یعنی تمہارے رب کے فضل وکرم سے۔
جب انسان قبل نبوت کی سیرت کے واقعات پڑھتا ہے تو وہ متعجب ہوتا ہے کہ اس شخص پر یہ لوگ ایسا الزام لگاتے ہیں جس کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ وہ بہت بڑا دانا شخص ہے۔ نبوت سے کئی سال پہلے جب ان کے درمیان حجر اسود کے نصب کرنے پر اختلاف ہوگیا تو آپ نے بڑی عقلمندی سے مسئلہ کو حل کردیا۔ پھر انہوں نے آپ کو امین کا لقب دیا۔ اور آپ کے پاس وہ اپنی امانتیں رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ہجرت کے وقت تک امانتیں آپ کے پاس رکھی جاتی تھیں۔ سخت دشمنی کی حالت میں بھی ان کا اعتماد تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہجرت کے بعد ایک زمانہ تک مکہ میں رہے تاکہ لوگوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیں جو آپ کے پاس رکھی ہوئی تھیں۔ پھر یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے کبھی جھوٹ نہ سنا تھا۔ جب ہر قل نے ابوسفیان سے پوچھا کیا نبوت سے پہلے تم نے کبھی اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ؟ ابوسفیان ارچہ آپ کا سخت دشمن تھا مگر اس نے کہا ” نہیں “۔ تو اس پر ہرقل نے کہا جو شخص تم میں سے کسی پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ خدا پر کس طرح جھوٹ باندھ سکتا ہے کہ لوگوں سے سچ کرے اور خدا سے جھوٹ۔
انسان حیران رہ جاتا ہے کہ مکہ کے لوگوں نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں کرنے کی جرات کی۔ حالانکہ آپ بہت بلند اخلاق ، مہربان ، سچے اور ان کے درمیان نہایت ہی عقلمند مشہور تھے۔ لیکن محبت ونفرت انسان کو اندھا اور بہرہ کردیتی ہیں۔ اور انسان اپنے مقاصد کے لئے جھوٹ بولنے پر بھی آمادہ ہوجاتا ہے۔ اور ہر شخص جانتا ہے کہ کہنے والا کذاب ہے۔
ماانت ................ بمجنون (86 : 2) ” تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو “۔ یوں نہایت محبت اور ہمدردی کے ساتھ آپ پر سے اس الزام کی نفی کی جاتی ہے۔ اور آپ کو اس سے باعزت طور پر بری قرار دیا جاتا ہے۔ اور ان کے کافرانہ عناد اور مذموم الزام کو رد کردیا جاتا ہے۔
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.