آیت 29{ یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط } ”اسی سے مانگتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے اللہ ہی کے در کی سوالی ہے۔ ہر کسی کو وجود بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ ہر زندہ وجود کی زندگی بھی اسی کی دین ہے ‘ کسی مخلوق میں اگر کوئی صلاحیت ہے تو وہ بھی اسی کی بخشی ہوئی ہے اور تمام مخلوقات کے ایک ایک فرد کی ضرورتوں کا خبرگیر ونگہبان بھی وہی ہے۔ اس حوالے سے سورة محمد کی آیت 38 کے یہ الفاظ بہت واضح ہیں : { وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُج } کہ اللہ غنی اور بےنیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ یعنی تمہارا وجود ‘ تمہاری زندگی ‘ تمہاری صلاحیتیں ‘ غرض تمہارا سب کچھ اسی کا عطا کردہ ہے۔ تم اپنے تمام تر وسائل سے بس وہی کچھ کرسکتے ہو جس کی وہ اجازت دیتا ہے اور صرف اسی قدر جان سکتے ہو جس قدر وہ چاہتا ہے۔ اس کی مخلوق کے تمام افراد پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے : { وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلاَّ بِمَا شَآئَج } البقرۃ : 255 کہ وہ سب کے سب اس کے احاطہ علم میں مقید و محصور ہیں اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے ‘ مگر اسی قدر جس قدر وہ چاہتا ہے۔ { کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ۔ } ”ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔“ ہر دن اس کی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر امر کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة السجدۃ میں بایں الفاظ آیا ہے : { یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَـیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔ } ”وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘ پھر وہ امر چڑھتا ہے اس کی طرف ‘ یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس ہے“۔ یعنی کائنات اور مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فارغ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ‘ بلکہ اس کائنات کے نظام اور ارض و سماء میں پھیلی ہوئی مخلوقات سے متعلق تمام امور کو وہ لمحہ بہ لمحہ اپنی تدبیر سے چلا رہا ہے۔ اس تدبیر کی منصوبہ بندی کے لیے اس کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ چناچہ اس کے ہاں ایک ایک دن کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ‘ اہم فیصلے کیے جاتے ہیں ‘ احکام جاری ہوتے ہیں ‘ ان احکام کی تعمیل و تنفیذ عمل میں لائی جاتی ہے اور پھر جائزہ رپورٹیں اسے پیش کی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر دن کے لیے اس کی نئی شان ہے اور نئی مصروفیات !
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.