آیت 29{ لِئَــلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَ لاَّ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ } ”یہ اس لیے ہے تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ کے فضل پر اب ان کا کوئی حق نہیں ہے“ گزشتہ آیت کی تشریح کے دوران میں نے ذکر کیا تھا کہ { یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ } کے خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے۔ یہ بات اس آیت میں اب بالکل واضح ہوگئی ہے۔ جن مفسرین کا ذہن اس طرف نہیں گیا کہ گزشتہ آیت میں خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے انہیں زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ یہاں لِئَــلاَّ میں لاَ زائد ہے اور اصل میں یہاں مراد لِکَیْ یَعْلَمَ ہے۔ چونکہ ان لوگوں کے نزدیک گزشتہ آیت صرف مسلمانوں سے خطاب کر رہی ہے ‘ اس لیے انہوں نے زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے : ”تاکہ اہل کتاب کو اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اب انہیں کوئی قدرت حاصل نہیں ہے اللہ کے فضل پر۔“ بہرحال میں نے گزشتہ آیت میں اہل کتاب سے خطاب کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے زیر مطالعہ آیت کا جو ترجمہ کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کے لیے اب اللہ کے فضل کے حصول کا کوئی راستہ رہا ہی نہیں ‘ بلکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے لیے راستہ تو اب بھی کھلا ہے۔ وہ آئیں ‘ خود کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈال دیں ‘ قرآن پر ایمان لائیں اور اللہ کے فضل میں حصہ دار بن جائیں۔ یہی بات انہیں سورة بنی اسرائیل میں بھی بایں الفاظ کہی گئی ہے : { عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْج } آیت 8 ”ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے“۔ یعنی بیشک تم اللہ کے بہت لاڈلے تھے اور اب تم اپنے طرزعمل کی وجہ سے راندئہ درگاہ ہوگئے ہو ‘ لیکن تمہارا ربّ اب بھی تم پر رحمت فرمانے پر آمادہ ہے۔ بس تم آخری نبی حضرت محمد ﷺ اور آخری آسمانی کتاب قرآن پر ایمان لے آئو اور اس کی رحمت کے مستحق بن جائو۔ بلکہ اس سے اگلی آیت میں مزید واضح فرما دیا گیا : { اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ } آیت 9 ”یقینا یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے“۔ اب ہدایت کا ”شاہ درہ“ تو بس قرآن ہی ہے ‘ چناچہ آئو اور اس راستے سے ہوتے ہوئے اللہ کے قصر رحمت میں داخل ہوجائو۔ بہرحال آیت زیر مطالعہ میں اہل کتاب پر واضح کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے ان پر بند نہیں ہوگئے ‘ یہ دروازے ان کے لیے اب بھی کھلے ہیں۔ { وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۔ } ”اور فضل یقینا اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔“
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.