آیت 21{ لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ } ”اگر ہم اس قرآن کو اتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔“ یہ قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ اہم نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید کی عظمت اور قرآن مجید کی افادیت دو الگ الگ موضوعات ہیں۔ ان دوموضوعات کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک قرآن مجید کی افادیت کا تعلق ہے ‘ قرآن کی متعدد آیات اس حوالے سے ہماری راہنمائی کرتی ہیں ‘ لیکن سورة یونس کی یہ دو آیات اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں :{ یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ لا وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ - قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ۔ } ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے اَمراض کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور بہت بڑی رحمت۔ اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ یہ قرآن اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوا ہے ‘ تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں ! وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“یہ تو قرآن مجید کی افادیت کا ذکر ہے ‘ لیکن قرآن مجید فی نفسہٖ کیا ہے ؟ انسان کا محدود ذہن اس موضوع کو کماحقہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ چناچہ قرآن مجید کی عظمت کے تصور کو انسانی ذہن کے لیے کسی حد تک قابل فہم بنانے کے لیے آیت زیر مطالعہ میں ایک تمثیل بیان کی گئی ہے۔ اس تمثیل کو سمجھنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کو ہِ طور پر پیش آنے والے واقعہ کی یاد دہانی ضروری ہے۔ یہ واقعہ سورة الاعراف کی آیت 143 میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب چالیس راتوں کے لیے کو ہِ طور پر گئے تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی : { رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَط } کہ اے میرے رب ! مجھے اپنا جلوہ دکھا ‘ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ { قَالَ لَنْ تَرٰٹنِیْ } اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ { وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ } البتہ تم اس پہاڑ کو دیکھو ‘ میں اپنی تجلی اس پر ڈالوں گا۔ { فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰٹنِیْج } تو اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ قائم رہ سکا تو پھر تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ { فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ } پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر ایک تجلی ڈالی ‘ یعنی نورکا پرتو جب پہاڑ پر پڑا تو { جَعَلَہٗ دَکًّا } اس نے اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کرکے رکھ دیا۔ { وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًاج } الاعراف : 143 اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بالواسطہ تجلی کے مشاہدہ کی تاب نہ لاتے ہوئے بےہوش کر گرپڑے۔ اس واقعہ کے ساتھ آیت زیر مطالعہ میں بیان کی گئی تمثیل کی گہری مماثلت ہے۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ کو ہِ طور پر ”تجلی ذات“ کا معاملہ تھا اور یہاں اس تمثیل میں ”تجلی صفات“ کا ذکر ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام اپنے متکلم کی صفت ہوتا ہے۔ اس لیے جو تاثیر ذات باری تعالیٰ کی تجلی کی ہے عین وہی تاثیر کلام اللہ کی تجلی کی ہے۔ علامہ اقبال اپنے انداز میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان یوں کرتے ہیں : ؎فاش گویم آنچہ در دل مضمر است ایں کتابے نیست چیزے دیگر است !کہ اگر میں اپنے دل کی بات کروں تو یہ کہوں گا کہ قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہی چیز ہے۔ کیا چیز ہے ؟ اس کی مزید وضاحت علامہ یوں کرتے ہیں :مثل ِحق پنہاں و ہم پیدا ست ایں زندہ و پائندہ و گویا ست ایں !یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی صفات کا حامل ہے اور اس حیثیت میں یہ پوشیدہ بھی ہے اور عیاں بھی۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا بھی ہے اور گویا بولتا ہوا بھی۔ قرآن حکیم کی عظمت کے حوالے سے سورة الواقعہ کی آیت { لَا یَمَسُّہٗٓ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ۔ } کی تشریح کے تحت یہ نکتہ بھی زیر بحث آچکا ہے کہ قرآن مجید کی حقیقی معرفت ‘ اصل ہدایت اور روح باطنی تک رسائی کے لیے انسان کے باطن کا پاک ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے باطن کا تجزیہ کیے بغیر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو وہ صرف اس کی عبارت اور لغت کے ظاہری مطالب و معانی تک ہی رسائی حاصل کر پائے گا۔ یہی بات مولانا روم نے تعلی میز الفاظ میں یوں بیان کی ہے :ما زِ قرآں مغزہا برداشتیم استخواں پیش ِسگاں انداختیم ! کہ ہم نے قرآن سے اس کا مغزلے لیا ہے اور ہڈیاں کتوں کے آگے ڈال دی ہیں۔ { وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَـعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ۔ } ”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔“ اب وہ تین عظیم آیات آرہی ہیں جن کا ذکر اس رکوع کے آغاز میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے ہوا تھا۔ واضح رہے کہ صفات ِباری تعالیٰ کے موضوع پر سورة الحدید کی پہلی چھ آیات قرآن مجید کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔ عربی میں اونٹ کی کو ہان کو سنام اور کسی چیز کی چوٹی یا بلند ترین حصے کو ذُروہ/ذِروہ کہتے ہیں۔ چناچہ ذروئہ سنام کا مطلب ہے کو ہان کی بھی چوٹی۔ یعنی سب سے اونچا مقام یا کسی چیز کا نمایاں ترین حصہ ! جبکہ اسمائے حسنیٰ کے ذکر کے اعتبار سے سورة الحشر کی آخری تین آیات پورے قرآن میں منفرد و ممتاز مقام کی حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے حوالے سے یہاں ”ایمانِ مجمل“ کے یہ الفاظ بھی اپنے حافظے میں تازہ کرلیں : آمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَائِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے تمام احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.