آیت 7{ وَلَا یَتَمَنَّوْنَہٗ اَبَدًام بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ } ”اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہرگز کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنے ان اعمال کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں۔“ { وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور اللہ ان ظالموں سے خوب واقف ہے۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } القیامۃ کے مصداق یہ لوگ اپنے کرتوتوں کو خوب جانتے ہیں۔ اس لیے یہ نہیں چاہتے کہ انہیں موت آئے اور وہ اپنی بداعمالیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوں۔ ہم مسلمانوں کے لیے بنی اسرائیل سے متعلق ان آیات کی حیثیت ایک آئینے کی سی ہے۔ اس آئینے میں اگر ہم اپنی تصویر دیکھیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ یہ زعم صرف بنی اسرائیل میں ہی نہیں پایاجاتا تھا بلکہ آج ہم مسلمانوں کی اکثریت بھی اسی سوچ کی حامل ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب اللہ کی کتاب سے ہمارا ذہنی و قلبی رشتہ نہ رہا تو اپنی تسلی کے لیے ہمیں خود ساختہ خوش فہمیوں wishful thinkings کا سہارالینا پڑا۔ ان میں سب سے بڑی اور سب سے موثر خوش فہمی تویہی ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے ‘ ہم اللہ کے محبوب ترین نبی حضرت محمد ﷺ کی امت ہیں اور اس رشتے سے اللہ کے بہت ہی لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ چناچہ ہم جیسے بھی گناہگار سہی ‘ آخرت میں ہمارے نبی ﷺ یقینا ہماری شفاعت کریں گے اور دوزخ سے ہماری خلاصی کو یقینی بنائیں گے۔ اگر خدانخواستہ ہم میں سے کوئی فرد کسی بڑے جرم میں پکڑا بھی گیا تو اسے بھی بہت جلد دوزخ سے نکال کر جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ ہمارے ہاں یہ خوش فہمیاں پختہ ہو کر باقاعدہ عقائد کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔ اب ایسی ضمانتوں کے ہوتے ہوئے بھلا کون احمق ہوگا جو نیک اعمال کے لیے مشقتیں اٹھائے اور رشوت ‘ چور بازاری اور دوسری حرام کاریوں سے اجتناب کرتا پھرے : ؎خبر نہیں کیا ہے نام اس کا ‘ خدا فریبی کہ خود فریبی ؟ عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ !اقبال کا یہ شعر اس حوالے سے آج ہم پر ہوبہو صادق آتا ہے۔ پہلے تو ”مسلمان“ کے پاس عمل سے بچنے کے لیے صرف تقدیر کا بہانہ تھا ‘ اب ہم نے مذکورہ بالا عقائد کی صورت میں بہت مضبوط سہارا بھی تلاش کرلیا ہے۔
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.